بلا وجہ بے لباس ہونے کی وجوہات

شاہد نذیر نے 'متفرق موضوعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏13 مارچ 2014

  1. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    31
    ویسے کیا ایسا ممکن ہے کہ اس قسم کے موضوعات عمومی فورم پر نہ ہوں؟

    یا اس قسم کے موضوعات تک رسائی سے پہلے موضوع سے متعلق کچھ تنبیہ ہو۔

    تاکہ کم عمر لوگ بھی اس فورم پر آزادانہ آئیں جائیں۔ اور یہاں کے موضوعات کو معیوب خیال نہ کریں۔
    • متفق متفق x 1
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91
    آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کم عمر لوگوں کے علاوہ بھی ہمیں اپنی اقدار کا پاس رکھنا چاہئے۔ آپ کو بھی "کوئے جاناں" یاد تو ہو گی۔ بلکہ ممکن ہے اب بھی آنا جانا رہتا ہو (اشارہ کافی است)۔
  3. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91
    ایک نکتہ ہے جناب فلک شیر چیمہ صاحب۔

    فردوس میں ہمارے اماں بابا پر جب وہ وقت پڑا (سب جانتے ہیں) تو ان کی سب سے پہلی سعی تھی اپنے بدن کو، اپنے ننگ کو ڈھانپنا، حالانکہ ان کا کوئی تیسرا ہم جنس وہاں نہیں تھا۔ تو آخر کیوں؟ انہیں سب سے پہلے بدن ڈھانپنے ہی کی کیوں پڑی؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں حیا رکھی ہے۔ ہن لباس لکم و انتم لباس لہن کے باوجود برہنگی پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ آپ وظیفہء زوجیت میں ہیں، اس کے بعد؟ آپ نے غسل کیا، اس کے بعد؟ وہی بدن ڈھانپنا! اس لئے کہ یہ عین فطرت ہے۔ ہمیں ستر (چھپانے) کا اصولی حکم دیا گیا ہے۔ تفصیلات جو کچھ بھی ہیں، بنیاد ستر ہے۔

    سنا ہے بہت لوگ ہیں، یہ بھی سنا کہ کئی بستیاں ہیں جن میں لوگ رہتے ہی ننگے ہیں، استغفراللہ۔ وہاں ازدواج بھی ویسا ہی (حیوانی) رہا ہو گا، جہاں ایک کا دوسرے سے صرف ایک رشتہ ہوتا ہے: جنسِ مخالف کا رشتہ اور ان کی زندگی کا مقصد بھی اتنا سا ہے کہ پیٹ بھرو، جان بچاؤ، نسل بڑھاؤ؛ کوئی حد، نہ قید نہ گرفت۔ گرفت اگر کوئی ہے تو یہی کہ کوئی جان سے گیا، کوئی اپنے جوڑے سے گیا، کوئی زخمی اور معذور ہو گیا اور اذیت کے عالم میں چل بسا۔ ان کی عاقبت بھی شاید یہی رہی ہو گی۔

    وہ جو انسان کی سطح سے گر کر حیوانیت کو اپنا لے وہ جانور بن گیا۔ اس پر قانون بھی وہی لاگو ہو گا کہ اس کو جان سے مار ڈالا جائے! کوئی اپنے دماغ سے، ہوش و حواس سے گیا، دیوانہ ہو گیا، وہ تو ہو گیا؛ ارادی طور پر برہنگی اختیار کرنے والے کو آپ دیوانہ کہہ لیں تو کیا ہے! جانور کہہ لیں تو کیا ہے! صوفی اس میں کہاں فٹ ہوتے ہیں، ہوتے بھی ہیں یا نہیں ہوتے یہ صاحبِ سوال کو پتہ ہو گا۔ ایک شخص ہوش مند ہے مگر دیوانہ پن کا کھیل رچائے پھرتا ہے (لوگ اسے پاگل جان کر کچھ نہیں کہتے)، وہ تو حیوان سے بھی آگے، شیطان کے درجے پر ہے۔

    اللہ کریم ہمیں اپنی عافیت میں رکھے۔ آمین!
  4. sabir.mushahidi

    sabir.mushahidi رکن

    مراسلے:
    1
    سچ کہا آپنے

    Sent from my GT-I9300 using Tapatalk

اس صفحے کی تشہیر