برابر نہیں ≠ برابر نہیں

محمد اجمل خان نے 'قرآن کریم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏14 نومبر 2017 2:41 شام

  1. محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن

    مراسلے:
    68
    برابر نہیں ≠ برابر نہیں

    قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚسورة المائدة: آیت ۱۰۰
    فرما دیجئے: پاک اور ناپاک برابر نہیں ہو سکتے‘ اگرچہ ناپاک کی کثرت تمہیں بھلی لگے۔

    قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ ….سورة الزمر:آیت ۹
    کہیے کیا جو علم رکھتے ہیں اور علم نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟

    قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗسورة الرعد: آیت ۱۶
    کہیے کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں یا تاریکیاں اور نور برابر ہو سکتے ہیں؟

    وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ ۚ قَلِيلًا مَّا تَتَذَكَّرُونَ ﴿٥٨﴾ سورة غافر
    اندھا اور بینا برابر نہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے (وہ) اور بدکردار برابر نہیں۔ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔

    لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٢٠﴾سورة الحشر
    اہلِ جہنم اور اہلِ جنت برابر نہیں ہوسکتے، اہلِ جنت ہی کامیاب ہیں

    لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚسورة النساء: آیت ۹۵
    مومنوں میں سے جو بلا عذر گھر بیٹھ رہتے ہیں اور وہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں جان اور مال سے جہاد کرتے ہیں‘ برابر نہیں ہو سکتے۔

    ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ الْحَمْدُ لِلَّـهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٧٥﴾ سورة النحل
    اللہ نےایک مثال بیان فرمائی ہے(کہ) ایک غلام ہے (جو کسی کی) ملکیت میں ہے(خود)کسی چیز پرقدرت نہیں رکھتااور (دوسرا) وہ شخص ہے جسےہم نےاپنی طرف سےعمدہ روزی عطا فرمائی ہےسو وہ اس میں سےپوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا ہے، کیا وہ برابر ہو سکتے ہیں، سب تعریفیں اللہ کےلئے ہیں،بلکہ انمیں سے اکثرنہیں جانتے۔

    وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٧٦﴾سورة النحل
    اور اللہ نے دو آدمیوں کی مثال بیان فرمائی ہے‘ ایک گونگا ہے جو کچھ بھی نہیں کہہ سکتا اور وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے‘ وہ اسے جدھر بھیجتا ہے کوئی اچھائی نہیں لاتا ، کیا وہ (گونگا) اور ایسا شخص جو انصاف کا حکم دیتا ہو اور خود بھی سیدھے راستے پر ہو (دونوں) برابر ہو سکتے ہیں۔
    ۔
  2. ٹرومین

    ٹرومین رکن

    مراسلے:
    30
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کی تشہیر