برائے تنقید و اصلاح

محمد عظیم الدین نے 'اصلاح سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏26 نومبر 2017

  1. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    73
    نقد و نظر والی بات تو آسی صاحب ہی کر سکیں گے کہ ہم اس قابل نہیں ہیں۔

    ویسے غزل آپ کی اچھی معلوم ہوتی ہے اور بظاہر اس میں وزن کے مسائل نہیں ہیں۔

    اشعار بھی اچھے ہیں تاہم معنی آفرینی اور ندرتِ کلام جنتی زیادہ ہو اُتنا ہی شعر کا لطف آتا ہے۔
    • پسند پسند x 1
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    133
    صاحبِ کلام کو اللہ کریم نے بہت صلاحیتوں سے نوازا ہے، تاہم محنت انہیں خود کرنی ہوگی۔ وہی ہزار بار کی دہرائی ہوئی بات کہ شعر کا کلامِ منظوم ہونا ضروری ہے، یہ ضروری نہیں کہ ہر کلامِ منظوم شعر بھی ہو گا۔

    مختلف مواقع پر ہوئی گفتگو کا حاصل کچھ میرے بلاگ پر بھی پڑا ہے، کچھ فیس بک پر ادھر ادھر بکھرا پڑا ہو گا۔ اب ایک ایک فن پارے کے ایک ایک شعر پر بات کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ جسم ساتھ نہیں دے رہا۔ ہو سکے تو کبھی کبھار میرے بلاگ کا چکر لگا لیا کریں، اور کچھ بھی نہ ہوا تو سوال ضرور پیدا ہوں گے، ان کی تشفی خود آپ کو کرنی ہو گی۔
    • شکریہ شکریہ x 1
  3. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,143
    گڈ
    من نہ دانم فاعلات
    آسی صاحب سے درکواست ہے کہ ایک ایک شعر نہ سہی، محبت سے بنیادی مسئلہ بیان کر دیں :)
    • متفق متفق x 1
  4. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,143
    تو محمداحمد بھائی کب غزل پیش کر رہے ہیں تازہ ؟ :)
    اور نیرنگ خیال بھائی سے درخواست ہے کہ باقاعدہ تحریر پیش کر کے ابتدا فرمائیں
    • متفق متفق x 1
  5. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    133
    ہائے ظالم! "فاعلات" کا انکار کر دیا! اپنی تو عمر بھی کی کمائی رائیگاں گئی جانئے! ایسی بے دردی بھی کیا (جملہء معترضہ)۔

    مضمون، بحر، قافیہ (بشمول ردیف)، ابلاغ: یہ شعر کے بنیادی تقاضے ہیں، مگر اِن کو پورا کر لینا کافی نہیں ہے۔ شعر میں اپنے قاری سے ایک انداز کی سانجھ پیدا کی جاتی ہے، اور اس میں افکار و محسوسات کی ترسیل ضروری ہے۔ آپ نے ایک واقعہ ایک بات سیدھے سبھاؤ یوں بیان کر دی کہ اس کا مفہوم آپ کے قاری تک پہنچ گیا؛ اس کے علم میں بھی کچھ اضافہ ہو گیا، مان لیجئے۔ مگر کوئی ایسا عنصر اس میں شامل نہ ہو سکا جو قاری کو کسی احساس کو چھیڑے؛ اسے کلامِ منظوم کہہ لیجئے۔ شعر میں سانجھ بنانا ضروری ہے، اچھی ہو، بری ہو، موافق ہو، مخالف ہو، طنز ہو، ہمدردی ہو، خوشی ہو، رنج ہو؛ کچھ نہ کچھ ہو تو سہی جو قاری کی دھڑکن میں یا سانس میں کچھ اضطراب پیدا کرے یا فکر میں کوئی جھماکا کرے۔ یہاں ڈرامے بازی بھی گناہ نہیں۔ بابا جی (پروفیسر انور مسعود) کا کہا اکثر دہرایا کرتا ہوں: شعر وہ ہے جو آپ کو چھیڑ دے اور آپ کا ذہن اس کے پیچھے یوں لپکے جیسے بچہ تتلی کے پیچھے دوڑتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شعر میں کوئی قابلِ توجہ غلطی بھی نہیں مگر وہ قاری کو اپنی طرف نہیں کھینچ پاتا۔ یہ وہی ہے چھیڑ نہ سکنے کی کیفیت! اس سے شعر اپنی تاثیر بنا ہی نہیں پاتا، کھوئے گا کیا!۔

    زبان کا سواد، انشاپردازی، فنیات، صنائع بدائع، علامات و رعایات، ملائمت اور جمالیات؛ یہ وہ ریگ مال ہیں جو شعر کو ملائم کرتے ہیں اور چمکاتے ہیں۔ ان سے کام لیجئے۔ یہاں بنیادی بات کہ آپ کے شعر میں کوئی لسانی غلطی نہ ہو، محاورہ ضرب المثل، تلمیح، استعارہ؛ اگر آپ لائے ہیں تو وہ بہر لحاظ درست ہو۔ زبان و بیان، قواعد اور املاء کی غلطی ایک شاعر کے لئے قطعاً ناقابلِ معافی ہے۔

    یہ بھی وہی، کہی کہلائی اور بار بار دہرائی ہوئی باتیں ہیں۔ شاعر اِن کو درخورِ اعتناء سمجھے نہ سمجھے، اختیار تو اس کا ہے۔ آپ کا قاری آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر وہ آپ کے شعر سے بددِل تو ہو سکتا ہے نا! شعر غم پھیلا سکتا ہے، بے چینی پھیلا سکتا ہے، خوشی پھیلا سکتا ہے، خود داری، بے خودی کچھ بھی پھیلا سکتا ہے۔ مگر جو بددِلی لائے وہ شعر تو نہ ہوا۔

    ایک ٹوٹکا سمجھ لیجئے۔ آپ کا شعر زندگی سے جس قدر گہرائی پر جا کر جُڑا ہوا ہے، اس میں بیان کی گئی بات جس قدر پائیدار، پختہ اور دیرپا ہے، شعر اتنا ہی قیمتی ہے۔ کوئی عارضی بات ہے یا کوئی ہنگامی واقعہ ہے، یا کوئی محض تخیلاتی بات کر دی گئی ہے جسے ہوا میں محل تعمیر کرنا کہتے ہیں تو وہ بس ایسے ہی ہے۔ تخیلاتی باتوں میں بھی قاری کو ملوث کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے عرض کیا کہ شعر میں ڈرامے بازی گناہ نہیں ہے؛ ڈراما کرتے ہی توجہ کھینچنے کے لئے ہیں۔

    بہت آداب۔
    • زبردست زبردست x 1
  6. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,143
    بہت قیمتی باتیں آسی صاحب!
    شکریہ
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کی تشہیر