بتا کیا پوچھتا ہے وہ

نیازی نے 'شعری انجمن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏26 اگست 2015

  1. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    223
    بتا کیا پوچھتا ہے وہ کہ خوابوں میں ملوں گا میں
    کئے ہیں تجھ سے جو وعدے محاذوں پہ ملوں گا
    میں آنے والا اب ہوں تو مجھے کیا خاک مارے گا
    میں ایسا شیر ہوں جو اب تیری اولاد مارے گا
    بتا آیا ہوں گھر پر کہ دشمن کو چلا ہوں میں
    ہٹا ہوں کب میں میداں سے کہ تجھ سے تو لڑا ہوں میں
    میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ سائے سے ڈرتا ہے
    بڑا مودی بنا پھرتا ہے ہمسائے سے ڈرتا ہے
    وہ جب جاتے ہوئے مجھ کو گلے اس نے لگایا تھا
    امان اللہ کہا مجھ کو تیرا چہرہ دکھایا تھا
    خدا کے امن کی راہ میں کہاں سے آگیا ہے تو
    جنہیں کل چومتی تھی ماں انہیں بھی کھا گیا ہے تو
    میں ایسی قوم سے ہوں جس کے تو سائے سے ڈرتا ہے
    بڑا مودی بنا پھرتا ہے ہمسائے سے ڈرتا ہے
    مجھے لڑنا ہے تم سے یہ سپاہی کہیں گے سب
    یہ اک وعدہ ہے تم سے جو میرے بھائی کرینگے سب
    ابھی بدلہ بھی باقی ہے کہاں تک جاسکوگے تم
    ابھی وعدہ رہا تم سے یہاں نہ آسکوگے تم
    میں ایسی قوم سے ہوں جس کے تو سائے سے ڈرتا ہے
    بڑا مودی بنا پھرتا ہے جو ہمسائے سے ڈرتا ہے
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کی تشہیر