ایٹمی ملک اور ناٹو سپلائی لائن

m aslam oad نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏10 جون 2012

  1. m aslam oad

    m aslam oad رکن

    مراسلے:
    417
    پوچھ لیجئے تاریخ سے کہ 67سال قبل ہنستی مسکراتی زندگیوں سے مرتب ہیروشیما کے دل پر کیا بیتی تھی؟ پلٹ لیجئے اوراق گزشتہ کو کہ ایک سفاک اور لٹیرے ملک نے زندگی کی رونقوں سے مزین ناگاساکی کی ہوائوں میں کیسا زہر گھول دیا تھا کہ آج تک اس کی باس اور اثرات ان دونوں شہروں میں موجود ہیں، آپ ہیروشیما کے پارک میں ایٹم بم میموریل میوزیم کو دیکھ لیں ایٹمی حملے کے بعد کی باقیات، جلی کٹی اشیائ، گاڑیاں، الماریاں اور انسانی ڈھانچے دیکھ کر آپ کے کلیجے سلگ اٹھیں گے، ڈھائی لاکھ کے قریب انسانوں کو کوئلے کے ڈھانچوں میں تبدیل کر ڈالنے والی اس سفاک طاقت سے کوئی نہیں سوال کرتا کہ تو اس قدر درندگی کے باوجود بھی امن کا داعی اور پاکستان تیری حمایت کر کے بھی دہشت گرد کیسے ہے؟
    اپنے ہی ملک کی تاریخ کو کھنگال لیجئے، 18مئی 1974ء کا دن تھا جب بھارت ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کے سامنے چھاتی تان کر کھڑا تھا، 1971ء کی جنگ جیتنے کے بعد اندراگاندھی نے فتح کے نشے میں یہ اعلان کیا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر ڈالا، ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد تو بھارت مزید چوڑے خان بن چکا تھا، حالات کے بھنور میں پھنسے پاکستان کے پاس ایٹم بم بنانے کے سوا کوئی چارئہ کار نہ تھا، اگرچہ 1956ء میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، ڈاکٹر عثمانی اس کا سربراہ بنایا جا چکا تھا، مگر ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے جدید خطوط پر، سنجیدگی اور متانت کے ساتھ فی البدیہہ کام کرنے کی اشد ضرورت تھی۔22دسمبر 1975ء کو ایک ایسے شخص کو ہالینڈ سے پاکستان خو د اپنے بقول بغیر کسی کے بلائے اور بغیر کسی لالچ کے چلا آیا ۔وہ وہاں پر 30ہزار ماہانہ تنخواہ کو چھوڑ کر پاکستان کی بقاء کے لئے 3ہزار ماہانہ لینے پر آمادہ ہو گیا، جسے آج سارا ملک اسے محسن پاکستان و محسن عالم اسلام کے نام سے یاد کرتا ہے۔اسی کی کوشش و کاوش سے 31جولائی 1976ء کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا، بھارت کی موٹی اور پھولی ہوئی ناک میں مونج کی رسی ڈالنے کے لئے 1978ء تک پاکستان یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ ہنری کسنجر تڑی لگاتا رہا کہ ایٹم بم مت بنائو، یہ عجیب طرفہ تماشا ہے کہ سات ہزار نو سو بانوے مربع میل پر کھجور کی گٹھلی نما اسرائیل اور اس کے اندر موجود صرف 59لاکھ 31ہزار یہودیوں کی حفاظت کے لئے تو ایٹم بم ناگزیر ہیں مگر 7لاکھ 96ہزار 96مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک ایسی اسلامی سلطنت جس کی آبادی 18کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے کے لئے ایٹم بم کی کوئی ضرورت نہیں، ساری دنیا کے یہودیوں کو بھی جمع کر لیں تو وہ کراچی کے رقبے سے بھی کم رقبے میں سما سکتے ہیں مگر ان کے پاس پھر بھی ایٹم بم موجود ہیں۔ پاکستان کا ایٹم بم آج بھی امریکہ کا سب سے بڑا ہدف ہے۔
    بھٹو گیا، جنرل ضیاء الحق آ گیا مگر ضیاء الحق نے بھی ایٹمی پروگرام کے تسلسل اور سرعت پر آنچ نہ آنے دی، ہنری کسنجر واویلا کرتا تھا کہ پاکستان کا ایٹم بم دراصل اسلامی بم ہے مگر زرداری اور گیلانی کو آج تک سمجھ نہ آئی کہ یہ اسلامی بم ہے، یقینا 1984ء تک پاکستان ایٹم بم بنا چکا تھا۔
    گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کر لیتا ہے، بعینہٖ بھارت کی موت آتی ہے تو وہ پاکستان کی طرف بھونکنے لگتا ہے، 11مئی 1998ء کو بھارت نے پوکھران میں ایٹم، نیوٹران اور ہائیڈروجن بموں کے تین تجربات کئے اور یہ دھماکے پاکستان کی سرحد سے صرف 93میل کے فاصلے پر کئے گئے۔ ساری دنیا بالخصوص امت مسلمہ کی نظریں پاکستان پر ٹک گئیں کہ پاکستان کب ان دھماکوں کا جواب دیتا ہے؟ پاکستانی دھماکوں کو رکوانے کے لئے امریکہ، جاپان، فرانس، روس اور برطانیہ نے پاپڑ بیلنا شروع کر دیئے اور امریکی نائب وزیر خارجہ مسٹر ٹالبوٹ تو پاکستان آدھمکا اور کھلم کھلا دھمکی دی کہ اگر جوابی دھماکے کئے تو سخت پابندیاں لگا دیں گے، فرانس، چین، روس، امریکہ، بھارت اور برطانیہ ایٹمی دھماکے کر لیں تو عالمی امن پر خراش تک نہ آئے مگر واحد اسلامی مملکت کے دھماکے رکوانے کے لئے عالم کفر پاگل ہوا جا رہا تھا۔
    پھر 28مئی 1998ء کا وہ تابناک دن طلوع ہوا کہ جس نے ملت اسلامیہ کو جرأت اور بہادری کے ساتھ ساتھ ایمانی جذبات میں لپٹا ایک اعتماد دیاکہ اب ہم کسی بھی جارح شیطانی طاقت کی بتیسی توڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، چاغی کے چٹیل اور سنگلاخ پہاڑ پر نعرئہ تکبیر گونجا اور بھارت کی پھوں پھاں اور امریکی دھمکیاں بھسم ہو کر رہ گئیں، اس وقت نوازشریف نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا تھا مگر اب نوازشریف پر بھی بھارتی عشق کا دورہ پڑ چکا ہے، سارا عالم اسلام آج بھی ورطۂ حیرت میں ہے کہ جو ایک ایٹمی طاقت کا وقار اور تمکنت ہوتی ہے وہ نااہل اور کرپٹ حکمرانوں نے اسے دی ہی نہیں یہاں پر بار بار ایسے ہی حکمران آئے جو امریکی غلامی کو سعادت، اعزاز اور افتخار سمجھتے رہے، کیا ایٹمی طاقت کی حیثیت یہی ہوتی ہے کہ اس کا دشمن اسی کی شاہراہوں اور فضائوں کو اسی پر حملے کے لئے استعمال کرے، کیا دنیا کی کسی بھی ریاست میں ایسا خوں چکیدہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ اس کا دشمن اسی کے شہریوں کو آگ اور بارود میں جھلسانے کے لئے اسی ملک کو استعمال کرے، عقل کے بجائے پیٹ سے سوچنے والے اور بصیرت کے بجائے بصارت سے دیکھنے والے حکمران جب بھی مسندِ اقتدار پر براجمان ہوں گے تو پھر ایسا ہی تو ہو گا، ناٹو سپلائی کے متعلق کیسے کیسے پینترے بدلے جا رہے ہیں دیکھ لیجئے کہ پہلے یہ خود کہتے تھے کہ ناٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی مگر اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں لے جایا ہی نہیں گیا، پھر یہ سطحی اور احمقانہ بات کی جانے لگی کہ امریکہ کے معافی مانگنے تک سپلائی لائن بحال نہیں ہو گی۔ اس نے آج تک معافی بھی نہیں مانگی مگر وزیر داخلہ سے لے کر وزیر خارجہ تک وزیراعظم سے لے کر صدر تک سب ہی سپلائی لائن بحال کرنے کے لئے یوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے ہیں کہ گویا یہ کوئی مقامِ مسرت یا باعثِ سعادت ہو، سپلائی لائن بحال ہونی چاہئے یا نہیں، جایئے! پوچھ لیجئے ان مائوں، بہنوں، بھائیوں اور باپوں سے کہ جن کے جگر پارے سلالہ چیک پوسٹ پر شہید کر دیئے گئے، امن کی آشا کی چھری چلانے والے سوال کریں ان مائوں بہنوں سے کہ جن کے گبھرو جوان کشمیر کی وادی میں شہید ہو گئے، اندرا گاندھی کا جانشین منموہن سنگھ یاد رکھے اور جو بھی بھارت کے ساتھ دوستی کی مالا جپتا ہے وہ بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لے کہ جب تک دنیا میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے دو قومی نظریہ زندہ و جاوید رہے گا، جب پاکستان ایٹمی ٹیکنالوجی سے محروم تھا تو اس وقت یہ دو قومی نظریہ قائم رہا اور اب جب ہم ایٹم بم اور اس سے بھی بڑھ کر جذبۂ جہاد سے شاداب ہیں تو بھلا کون اس نظریے کو ختم کر سکتا ہے؟

    بشکریہ۔۔ ہفت روزہ جرار
    والسلام،،،،علی اوڈ راجپوت
    ali oadrajput
  2. jobsikd

    jobsikd زیر نگرانی

    مراسلے:
    123
  3. Cowboy

    Cowboy رکن

    مراسلے:
    1
    السلام عليكم ورحمه الله وبركاته

    this post is all about fact and reality be think about it this is called terriroist of all kinds of nations unions who dont want to peace in others like muslims they hate muslims

اس صفحے کی تشہیر