امریکہ ايک اور امريکی منصوبہ

fawad نے 'خبروں کی دنیا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏11 ستمبر 2015

  1. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    [​IMG]

    امریکہ کی جانب سے پاکستان میں گندم کی پیداوار میں اضافے کے پروگرام میں معاونت


    اسلام آباد (۱۱ ستمبر، ۲۰۱۵ء)__ گندم کی پیداوار بڑھانے کے لئے امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ پروگرام (ڈبلیو پی ای پی) کا سالانہ اجلاس اس ہفتے اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ اس اشتراک کے تحت امریکہ اپنے محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی مشترکہ مالی اعانت کے ذریعے پاکستان میں گندم کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے اقدامات ، بین الاقوامی محققین کے ساتھ اشتراک کو وسعت دینےاور گندم کی پیداوار کے طریقوں اور آزمائش کو بہتر بنانے کے لئے تعاون فراہم کررہا ہے۔ یہ معاونت

    پاکستانی حکومت کے ساتھ ملکر فراہم کی جارہی ہے۔ گندم کو پھپھوندی لگنے کی بیماری (ویٹ رسٹ) جس کی وجہ سے پاکستان کو گذشتہ پچاس برسوں کے دوران گندم کی فصل میں کروڑوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، دنیا بھر میں کاشتکاروں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔


    یہ فعال پروگرام پاکستانی حکومت اور زرعی جامعات کےتحقیقی اداروں، امریکی محکمہ زراعت، انٹرنیشنل سینٹر فار میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ (سیمٹ) اور انٹرنیشنل سینٹر فار ایگریکلچرل ریسرچ ان ڈرائی لینڈ ایریاز (ایکارڈا) کا ایک بین الاقوامی اشتراک ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان میں گندم کی پیداوار کو محفوظ بنانا اور اس میں اضافہ کرنا، بالخصوص گندم کی فصل کو پھپھوندی کی بیماریوں سے بچانا ہے جنہیں کیڑے مار زرعی ادویات کے ذریعے ختم کرنا بہت مشکل اور مہنگا پڑتا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے ماہرین کے مطابق گندم کی اس بیماری پر قابو پانے کا واحد حقیقی طریقہ اس بیماری سے مدافعت کی حامل گندم کی نئی قسم کی تیاری ہے۔


    امریکی محکمہ زراعت کے اے آر ایس پلانٹ سائنس ریسرچ یونٹ کے محقق ڈاکٹر ڈیوڈ مارشل کا کہنا ہے کہ گندم کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا طویل مدتی اور دیرپا حل اس بیماری کے سدباب پر مرکوز گہری اور مسلسل تحقیق، مدافعت کی حامل گندم کی اقسام کی تیاری اور پیداوار کے بہترین طریقے اختیار کرنے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت "ویٹ جینیٹک ریسورسز" کا ایک منفرد ذخیرہ وضع کیا گیا ہے اور ان جنیاتی وسائل کو گندم کی کاشت کرنے والے پاکستانی اور امریکی کسان گندم کی بیماری کے خلاف مدافعت کو بہتر بنانے اور پیداواری صلاحیت اور آٹے کا معیار بلند کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔


    زراعت پاکستان میں دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے جس کا خام ملکی پیداوار میں حصہ ۲۱ فیصد سے زائد ہے۔ زراعت کا شعبہ پاکستان میں سب سے زیادہ روزگار مہیاکرتا ہے اور اس شعبے کا فارمنگ میں کام کرنے والی افرادی قوت میں حصہ ۴۶ فیصد پر مشتمل ہے۔ امریکی محکمہ زراعت پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے، معاشی مقاصد کے حصول میں تعاون اور غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاونت کے لئے پاکستانی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کے ساتھ تعاون کی اپنی طویل روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ گندم ایک عام پاکستانی کی یومیہ غذائیت کا ۶۰ فیصد فراہم کرتی ہے۔ گندم پورے پاکستان میں ۹۰ لاکھ ہیکٹرز اراضی سے زائد رقبے پر کاشت کی جاتی ہے۔


    اس پروگرام کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔


    ARS Project: Pakistan Wheat Production Enhancement Program (Icarda) (420458)


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach

    [​IMG]
  2. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    [​IMG]

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    فاٹا کے ۷۶طالبعلموں کی جانب سے اعلیٰ ثانوی تعلیم کا حصول

    اسلام آباد (یکم اکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے ۷۶ طالبعلموں نے اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران اعلیٰ ثانوی تعلیم کی اسناد وصول کیں۔ معاشی امور ڈویژن کے سیکریٹری محمد سیٹھی اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نےفاٹا کے ان طلبہ میں اسناد تقسیم کیں، جنہوں نے ’’یو ایس ایڈ فاٹا اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت اعلیٰ ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اسناد کی تقسیم کی خصوصی تقریب یکم اکتوبر کو یہاں منعقد ہوئی، جس میں متعدد طلبہ نے زندگی تبدیل کرنے والے اپنے تجربات اور مزید تعلیم کے لئے اپنے جذبات کے بارے میں اظہار خیال کیا۔

    ’’یو ایس ایڈ فاٹا اسکالرشپ پروگرام‘‘ کے تحت جس کا آغاز ۲۰۰۸ء میں ہوا تھا، تعلیم کے جذبے سے سرشار، انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے، فعال تعلیمی پروگرام کے خواہشمند اور اپنے علاقے سے باہر بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل طلبہ کووظائف دیئے گئے۔

    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے پائیدارتعاون اور ایک محفوظ، توانا اور خوشحال پاکستان کے امریکی عزم کی ایک بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے والے یہ طلبہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب دونوں ملک ملکر کام کریں تو کس قدر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اسکالرشپ حاصل کرنے والے خیبرایجنسی کے ایک طالبعلم حامد اللہ نے ،جنہیں تعلیم کے لئے اسلامیہ کالج، پشاور بھیجا گیا، کہا کہ تعلیم سے میری بصیرت میں وسعت آئی ہے ، میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں اور ایک اچھے میڈیکل کالج میں داخلے کے حصول کے لئے بہت محنت سے مطالعہ کررہا ہوں۔ حامد اللہ کا کہنا تھا کہ میں تعلیم کے حصول کا یہ موقع فراہم کرنے پر امریکی عوام کا شکریہ کبھی بھی پوری طرح ادا نہیں کرسکتا۔

    باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالبعلم ذاکر اللہ ،جنہوں نے بھی اسلامیہ کالج میں تعلیم حاصل کی، کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہ وظائف ملے۔ اس سے ہمیں پاکستان کے معروف ترین کالجوں میں سے ایک کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔

    تعلیم کے شعبے اور فاٹا میں یو ایس ایڈ کے اقدامات کے بارے میں مزید معلومات کے لئے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجئے۔

    www.usaid.gov/pakistan


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    digitaloutreach@state.gov


    www.state.gov


    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu


    USUrduDigitalOutreach

    [​IMG]
  3. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    [​IMG]

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی مدد سے پاکستان میں بجلی کی ترسیل اور پاور کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ

    اسلام آباد (۲۷اگست ، ۲۰۱۵ء) __ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے اقتصادی و ترقیاتی معاونت کے کوارڈینیٹر لیون وسکن اور چئیر مین نیپرا بریگیڈ یر ریٹائرڈ طارق صدوزئی نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے پاور دسٹریبوشن پروگرام کی کامیاب تکمیل کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی۔ دو سو اٹھارہ ملین امریکی ڈالر مالیت کا یہ پانچ سالہ پروگرام امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بہتری کے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سمارٹ میٹرز اور چوری روکنے والے تاروں جیسی جدید اصلاحات کو پاکستان میں متعارف کروایا گیا جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصان میں کمی اور منافع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

    اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیون وسکن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت توانائی کی بلا تعطل اور مسلسل فراہمی اور ایک روشن و ترقی یافتہ پاکستان کے لیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتی رہے گی۔

    پاور دسٹریبوشن پروگرام نے پاکستان کے بجلی کی تقسیم کے نظام میں متعد د جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروائی ہیں جس کے نتیجے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سالانہ آمدنی میں چار سو ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور دو سو میگا واٹ بجلی کی بچت ممکن ہوئی جس سے تیس لاکھ افراد کو بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

    ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۵ء کےعرصے میں اس پروگرام کے ذریعے بتیس ہزار سے زیادہ توانائی کے ماہرین کو تربیت فراہم کی گئی ، بجلی کے بہاؤ کی رفتار کی پیمائش کے جدید میٹرز کی تنصیب کی گئی اورصارفین کے لیے بلنگ سسٹم میں بہتری لائی گئی ۔ اسی پروگرام کے تحت زرعی پمپس پر بجلی کے ضیاع کو روکنے کے لیے نوے ہزار کپیسٹرز بھی لگائے گئے ، دولاکھ ساٹھ ہزار میٹر طویل تقسیم کار تاروں کو تبدیل کیا گیا اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لیے کئی اور آلات بھی فراہم کیے گئے ۔

    توانائی کے شعبے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانیوالی اعانت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وزٹ کریں

    Pakistan | Energy | U.S. Agency for International Development


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach

    [​IMG]
  4. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    [​IMG]

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی زرعی ماہرین کی جانب سے پودوں کو کیڑوں اور بیماریوں

    سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستانی حکام کی تربیت

    اسلام آباد (۲۰ اکتوبر، ۲۰۱۵ء)__ امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے)کی اینیمل اینڈ پلانٹ انسپکشن سروس کے ایک تجزیہ کار اور ایک برآمدات کے رابطہ کار نے زرعی پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمے اور دیگر متعلقہ حکام کے لئے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کا تجزیہ، ان خطرات پر قابو پانے اور رابطوں کی اہمیت سے متعلق تربیت کا اہتمام کیا۔ یہ تربیت زرعی اشیاء کی برآمد بڑھانے کے لئے حکومت پاکستان کی کوششوں میں بین الاقوامی معاونت کا حصہ تھی۔ تربیت کے مقاصد پودوں کی صحت کے نظام اور زرعی سائنس کے شعبے کے حکام کے علم میں اضافہ کرنا اور امریکی محکمہ زراعت اور پودوں کی صحت کے لئے کام کرنے والے پاکستانی حکام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا تھا۔

    امریکی محکمہ زراعت کی ایکسپورٹ کوآرڈینیٹر محترمہ لوٹی ایرکسن نے تربیت کے دوران کہا کہ حکومت پاکستان نے برآمدی زرعی مصنوعات کی قدر اور معیار میں اضافے کے لئے حالیہ برسوں کے دوران ناقابل یقین پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پودوں کے تحفظ کے کام پر مامور عملے اور ان کی مہارتوں کو وسعت دینے کے لئے پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمہ کے اقدامات میں معاونت پر امریکی محکمہ زراعت کو از حد خوشی ہے۔

    امریکی محکمہ زراعت کے رسک اینالسٹ والٹر گُٹیریز نے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کے تجزیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند پودوں سے متعلق قواعد ضوابط کا مقصد ملک کی مجموعی زراعت اور زرعی شعبے کے کاروباری شراکت داروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ محفوظ تجارت کے ہدف کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ درآمدی و برآمدی مصنوعات لازمی طور پر کیڑوں اور بیماریوں سے پاک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پودوں کے تحفظ کے محکمہ کو پودوں کو ممکنہ کیڑوں اور بیماریوں سے،جو زرعی مصنوعات میں ہوسکتی ہیں، لاحق خطرات کا ٹھوس سائنسی، بااعتبار اور قابل دفاع تجزیہ کے ذریعے تعین کرنا چاہئے ۔

    زراعت پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے جس کا خام ملکی پیداوار میں حصہ ۲۱ فیصد سے زائد ہے۔ زراعت سب سے زیادہ روزگار مہیا کرنا کرنےوالا شعبہ ہے ، جس سے مجموعی افرادی قوت کا ۴۶ فیصد حصہ منسلک ہے۔ دیہی علاقوں کی ۶۲ فیصد کے قریب آبادی کے لئے زراعت روزہ مرہ کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے، معاشی اہدف کے حصول اور غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاکستانی سائنسدانوں اور کسانوں کی معاونت کرتا ہے


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach

    [​IMG]
  5. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکہ کی جانب سے فاٹا کے متاثرین کی واپسی کیلئے ۳۰ ملین ڈالر اعانت کا اعلان


    پشاور (۴ نومبر ، ۲۰۱۵ء) ___ حکومت ِ ریاستہائے امریکہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی کیلئے ۳۰ ملین ڈالر کی اعانت کا اعلان کیا ہے۔


    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی( یو ایس ایڈ) کی جانب سے فراہم کردہ رقم اسکولوں کی تعمیر نو، روزگار کے لئے تربیت، کاشتکاری کے طریقوں میں بہتری اور طلبہ کیلئے خوراک کے وظائف کی فراہمی کیلئے استعمال ہو گی۔ اقوام متحدہ کے تین اداروں کے ذریعے اس منصوبے پر عمل در آمد کیا جائے گا۔


    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹرجان گرورکی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام بڑے جفاکش ہیں اورہم اُن کے عزم و ارادے اور ہماری اعانت سے فاٹا میں تیزی سے پھلتے پھولتے پرامن مستقبل دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ تقریب میں حکومت ِ پاکستان اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔


    یوا یس ایڈ کی اعانت فاٹا سیکرٹریٹ کی واپسی اور بحالی حکمت عملی سے مربوط ہے، جس کا مقصد بے گھر ہونے والے متاثرین کی باعزت واپسی ہے۔ فاٹا کے لگ بھگ بیس لاکھ افراد نے ۲۰۰۸ ء سے اب تک شورش اور بد امنی سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔

    امریکہ نے ۲۰۰۹ ء سے اب تک فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی اعانت فراہم کی ہے ، جو کہ اب تک کسی ملک کی طرف سے سب سے بڑی اعانت ہے


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach

    [​IMG]
  6. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    [​IMG]

    امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کی جانب سے نسٹ میں بارہویں سالانہ فلبرائیٹ اینڈ ہیمفری ایلومنائی کانفرنس کا افتتاح

    اسلام آباد (۷ دسمبر، ۲۰۱۵ء)__ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے ریکٹر انجنیئر محمد اصغر کے ہمراہ بارہویں سالانہ فلبرائیٹ اینڈ ہیمفری ایلومنائی کانفرنس میں دو سو سے زائد شرکاء کا خیر مقدم کیا، اس کانفرنس کا انعقاد یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے زیر اہتمام نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نَسٹ) میں کیا گیا۔ چار سے چھ دسمبر تک ہونے والی یہ کانفرنس مختلف اسکالرز، فلبرائٹ اور ہیمفری کے سابق شرکاء اور پاکستان میں امریکی سفارتخانہ اور واشنگٹن میں بیورو آف ایجوکیشن اینڈ کلچرل افیئرز کے مہمان مقررین کی زیر صدارت گول میز مباحثوں کے ساتھ بارہ سیمینارز پر مشتمل تھی۔

    امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے کے حوالے سےبہت پُرعزم ہے اورہم اس کا اظہار پاکستانیوں کی مدد کیلئے ایسی سرمایہ کاری کےذریعے کرتے ہیں جس میں پاکستانی معاشرے کی خوشحالی اور بہبود مضمر ہو۔ انہوں نے کہا کہ فلبرائٹ اور ہیمفری تبادلہ پروگرام امریکہ اور پاکستان کے درمیان مزید افہام وتفہیم پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

    یو ایس ای ایف پی پاکستان اور امریکہ کی حکومتو ں نے ۱۹۵۰ء میں تشکیل دیا تھا۔ یہ ایک دو ملکی کمیشن ہے جو امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی و پیشہ ورانہ تبادلوں کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان میں فلبرائیٹ پروگرام کو امریکی حکومت کی عالمی فنڈنگ میں سے سب سے زیادہ رقم ملتی ہے ۔ تقریباً چار ہزار پاکستانی فلبرائیٹ پروگرام اور ۲۰۰ افرادنے ہیمفری پروگرام میں شرکت کرچکے ہیں۔

    فلبرائیٹ پروگرام کا نام آنجہانی امریکی سینیٹر جے ولیم فلبرائیٹ کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس پروگرام کے تحت امریکہ کے عوام اور دنیا کے دیگر ملکوں کے عوام کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کی غرض سے تعلیم اور تحقیق کے لئے رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ ہیوبرٹ ایچ ہیمفری فیلوشپ پروگرام کا آغاز آنجہانی سینیٹر اور نائب صدر کی یاد میں اور اُن کی کامیابیوں کے اعتراف میں کیا گیا تھا جس کے تحت ایک سال کے گریجویٹ سطح کے نان ڈگری تعلیمی کورس ورک اور پیشہ ورانہ ترقی کی سرگرمیوں کے لئے ایسے پیشہ ورانہ ماہرین کو امریکہ بھیجا جاتا ہے جو ابھی اپنے کیریئرکے عروج پر نہ پہنچے ہوں۔

    امریکہ پاکستانی شہریوں کے لئے تبادلہ پروگراموں پر ہر سال ۴۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے اور ہر سال تعلیمی اور پیشہ ورانہ پروگراموں میں شرکت کے لئے ۱۳۰۰ سے زیادہ پاکستانیوں کو امریکہ بھیجتا ہے۔ فلبرائیٹ اور ہیمفری پروگراموں اور تعلیمی مواقع کے بارے میں مزید معلومات کے لئے یو ایس ای ایف پی کی درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے:

    http://www.usefpakistan.org

    یہ معلومات پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کے درج ذیل سرکاری فیس بک پیج سےبھی حاصل کی جاسکتی ہیں:

    Security Check Required

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach

    [​IMG]
  7. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    امریکی حکومت کی جانب سے فاٹا کے ۱۸،۰۰۰ سے زائد بے گھر خاندانوں کی واپسی کیلئے زرعی اعانت


    اسلام آباد (۵ ِجنوری ، ۲۰۱۶ء)__ امریکی حکومت نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے تعاون سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے ۱۸،۰۰۰ سے زائدعارضی طور پر بے گھ کسانوں کو اپنے علاقوں میں واپسی پر زرعی اعانت کی ہے۔کسانوں کو فراہم کی گئی زرعی اجناس انہیں ربی کی فصل کی کاشت کے ذریعے منافع کمانے اور اپنے خاندانوں کی کفالت میں مدد دینگی۔


    گزشتہ دسمبر کے دوران ۱۶،۶۵۰ خاندانوں کو گندم کے بیج، کھاد اور سبزیوں کے تھیلے، جبکہ ۲۰۰۰ اضافی خاندان جئی کے بیج اورکھاد فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنی فصلوں کی کاشت شروع کر سکیں۔


    یو ایس ایڈ ، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)کے تعاون سے فاٹا کے۵۴،۰۰۰ واپس جانے والے خاندانوں کو۲۰۱۵،۱۶ کے دوران اگلی تین فصلوں کی کاشت میں اعانت کریگا۔اس اعانت میں ایف اے او کے کسانوں کے فیلڈ سکول ماڈل میں کاشتکاری میں پانی کے بہتر استعمال، بہتر کاشت کاری کے طریقوں کے بارے میں تربیت، گھریلو پیمانے پر کاشتکاری کے طور طریقوں کی تربیت بھی شامل ہے۔


    فاٹا سیکریٹریٹ کے سسٹین ایبل ریٹرن اینڈ ری ہیبلٹیشن اسٹرٹیجی کے مطابق دسمبر ۲۰۱۶ تک۳۱۱،۰۰۰ خاندا ن واپس فاٹا جائینگے، جن میں سے اکثریت چھوٹے کاشتکاروں پر مشتمل ہے جن کیلئے بغیر مالی اعانت اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنا بہت مشکل ہو گا۔امریکی حکومت ان مشکلات کے حل کیلئے جامع پروگراموں کے ذریعے پاکستانی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔ ان منصوبوں میں انسانی بنیادوں پر اعانت، ہاؤسنگ، تعلیم اور مالی معاونت کے ذریعے معاشروں کو مستحکم بنانا ہے۔



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    [​IMG]
  8. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    بے گھر اور خوارک کی کمی کے شکار افراد کوراشن کی فراہمی کیلئے

    امریکہ کی جانب سے۲۰ ملین ڈالر کی اعانت

    اسلام آباد (۲۷ جنوری، ۲۰۱۶ء)__ امریکی حکومت نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے تقریباً ۱۲ لاکھ افراد، ۷۵ ہزار متاثرین زلزلہ اور پاکستان میں غذائیت کی کمی کاشکار ایک لاکھ ۵۳ ہزار ۵ سو خواتین اور بچوں کو خوراک کی فراہمی میں معاونت کے لئے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ذریعے حال ہی میں ۲۰ ملین ڈالر فراہم کئے ہیں۔

    یہ نئی امریکی معانت اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے زیر انتظام فراہم کی جائے گی، جو حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تقریباً چالیس ہزارمیٹرک ٹن گندم کو غذائیت سے بھرپور مقوی آٹے میں تبدیل کرے گا۔ اس کے علاوہ، ڈبلیو ایف پی ان افراد کو غذائیت کی فراہمی کے لئے ۹ ہزار میٹرک ٹن سے زائد خصوصی غذائی اشیاء تقسیم کرے گا۔

    یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے کہا کہ امریکی حکومت غذائیت کی کمی کے خطرے کاشکار عورتوں، مردوں اور بچوں کی محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کی مدد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انسانی ہمدردی کی بنیادپر امداد اور انسانی ترقی میں معاونت کے لئے پاکستان کے ساتھ دیرپا بنیاد وں پر کام کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

    یو ایس ایڈ کی ۲۰ ملین ڈالر کی یہ اعانت "ٹوئیننگ پروگرام" کے لئے فراہم کی جانے والی رقم کا حصہ ہے جو حکومت پاکستان، ڈبلیو ایف پی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا مشترکہ پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت پاکستان کی جانب سے عطیہ کردہ گندم کو غذائیت سے بھرپور مقوی آٹے میں تبدیل کیا جاتا ہے، جسے خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے بے گھر ہونے والے افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ امدادی اداروں کی رقوم کو گندم کی پسائی، گندم کے آٹے کو غذائیت سے بھرپورمقوی بنانے، اسے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے، اس کی نقل و حمل اور تقسیم کی لاگت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یو ایس ایڈ اس ‘‘ٹوئیننگ پروگرام’’ کے لئے رقم فر اہم کرنے والا سب سے بڑا بین الاقوامی ادارہ ہے، اس تازہ ترین معاونت کے بعد یو ایس ایڈ کی اس پروگرام کے لئے ۲۰۱۳ء سے اب تک مجموعی معاونت ۷۵ ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    [​IMG]
  9. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    [​IMG]

    خیبر پختونخوا اور فاٹا سے تعلق رکھنے والی ۱۸۵ دائیوں کے لئے امریکی تربیت


    امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) پاکستان کے مشن ڈائریکٹر جان گرورک نے خیبرپختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی اُن ۱۸۵ خواتین کو آج یہاں مبارکباد دی جنہوں نے دائیوں کے لئے تربیت کا ڈیڑھ سالہ کورس مکمل کیا۔ اس پروگرام کے لئے امریکہ نےمالی اعانت فراہم کی۔

    مشن ڈائریکٹر گرورک نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ صحتمند خاندان ایک صحتمند قوم کی بنیاد ہوتا ہے اس لئے انہیں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ امریکہ اس پروگرام اور دیگر منصوبوں کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرکے پاکستان کے صحت کے شعبہ کو مضبوط کر رہا ہے۔

    اس پروگرام کے دوران تربیت حاصل کرنے والی دائیوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کس طرح وہ چاہتی ہیں کہ زچہ و بچہ کی شرح اموات کوکم کیا جائےاورمقامی سطح پر صحت سے متعلق دیگر مسائل حل کئے جائیں۔ اپنی تربیت کے دوران جو یو ایس ایڈ کے ٹریننگ فار پاکستان پروگرام کے تحت فراہم کی گئی، شرکاء نےمقامی سطح پر زچگی کے وقت مدد، نارمل ولادت اور خطرات سے بروقت آگاہی سے متعلق تربیت حاصل کی تاکہ مریضہ کو بروقت مرکز صحت تک بھیجا جا سکے۔

    یو ایس ایڈ کےتقریباِ چونتیس ملین ڈالر مالیت کے ٹریننگ فار پاکستان پروگرام کے تحت توانائی، معاشی ترقی، زراعت، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوںمیں تربیت دی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت مئی ۲۰۱۷ء تک یو ایس ایڈ چھ ہزار پاکستانیوں کو تربیت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے شعبہ صحت میں یو ایس ایڈ کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید جاننے کے لئے مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر جائیے :

    www.usaid.gov/pakistan/health


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    [​IMG]
  10. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    225
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    [​IMG]

    نوجوان رہنماؤں کیلئے پاک-امریکہ الومینائی نیٹ ورک یوتھ ایکٹیوزم کانفرنس کا انعقاد

    اسلام آباد (۱۰ ِاپریل، ۲۰۱۶ء)__ اسلام آباد کی مقامی آبادیوں میں معاشرتی خدمات سرانجام دینے کی غرض سے نوجوانوں کو متحرک کرنے کیلئے پاک-امریکہ الومینائی نیٹ ورک (پی یو اے این) کی تین روزہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی۔ورکشاپس، گروہی مباحثوں اور اہم تقاریر کے بعد آؤٹ ریچ سرگرمیوں کا آغاز ہوا جن کی نوجوانوں کو اپنے معاشروں کی بہتر انداز کی خدمت کرنے کے سلسلے میں ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان اور جنوبی ایشیاء میں امریکی حکومت کی اعانت سے جاری تبادلہ پروگراموں کے سابق طالب علموں نے اسلام آباد میں منعقدہ اس تقریب میں شرکت کی جس کا اہتمام امریکی سفارتخانہ اور پی یو اے این نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔


    معاون امریکی وزیر خارجہ برائے تعلیمی و ثقافتی امور ایون رائن نے ۸ اپریل کو اس کانفرنس کا افتتاح کیا تھا۔


    معاون امریکی وزیر خارجہ ایون رائن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور خطے سے تعلق رکھنے والے نوجوان رہنما ؤں کے طور پر آپ سب اپنے خطے میں لوگوں کی خدمت کرنے کیلئے نوجوانوں کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اپنی خدمات اور اپنے اپنے ملکوں کیلئے اپنے عزم کی بدولت آپ اپنے ملکوں کو معاشی لیڈر بننے کی راہ پر گامزن رکھیں گے جو خوشحال اور محفوظ جنوبی ایشیاء کی کلید ہے۔


    تین روزہ کانفرنس کے دوران امریکی حکومت کے تبادلہ پروگراموں کے سابقہ شرکاء نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خاتمے،متشدد انتہا پسندی کے سدباب اور انسانی حقوق کے فروغ کے موضوعات پر مختلف ورکشاپس میں حصہ لیا، جس کا مقصد انہیں اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی کے حوالے سے ان کو متاثر کرنا تھا۔ شرکاء نے فنڈ ریذنگ سے متعلق ڈیجیٹل سکلز، کمیونیکیشن اور اپنے خیالات کو حقیقت میں تبدیل سے متعلق سرگرمیوں کے حوالے سے قیمتی معلومات حاصل کیں۔فلبرائٹ پروگرام کے سابق شریک اور ایوارڈ یافتہ طبیعات دان پرویز ہود بھائی،کوہ پیما ثمینہ بیگ اور فلمساز حیا فاطمہ نے بھی شرکا ء سے خطاب کیا۔


    ۲۰۱۴ کے گلوبل انڈر گریجویٹ تبادلہ پروگرام کی شریک صائمہ رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانفرنس میں شرکت سے ہمیں مختلف نوجوان افراد اور معاشرے کے رہنماؤں سے ملاقات کا زبردست موقع ملا۔اس کانفرنس میں شرکت کے بعد ہم اپنے معاشروں میں دیرپا اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    امریکی حکومت ہر سال ۴۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے ۱۳۰۰ سےزائد پاکستانیوں کو تعلیمی اور پیشہ وارانہ پروگراموں میں شرکت کیلئے امریکہ بھیجتی ہے۔ پی یو اے این طلبہ اور پیشہ ور افراد پر مشتمل ایک ایلومینائی نیٹ ورک ہےجنہوں نے امریکی حکومت کے مالی اعانت سے چلنے والے پروگراموں میں شرکت کی ہے۔پاکستان بھر میں ۱۵۰۰۰ ہزار سابقہ شرکاء کے ساتھ پی یو اے این کا شمار اپنی نوعیت کے دنیا کے بڑے نیٹ ورکس میں ہوتا ہے۔ پی یو اے این باقاعدگی سے پاکستان بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی ہے جن میں سروس پراجیکٹس، لیڈرشپ ٹریننگ، گول میز مباحثے اور سماجی سرگرمیاں شامل ہیں۔ پی یو اے این اور اس کانفرنس کے بارے میں مزید جاننے کیلئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔


    Security Check Required


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    [​IMG]

اس صفحے کی تشہیر