اونٹ کا دودھ اور پیشاب والی حدیث

محمدخرم نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏25 فروری 2014

  1. محمدخرم

    محمدخرم رکن

    مراسلے:
    1
    السلام علیکم
    آج ایک ویڈیو کلپ دیکھا جو سعودی عرب سے بتایا گیا ہے (کسی بدو کا ہی ہوگا) جس میں ایک لڑکا اونٹ کا پیشاب پی رہا ہے اور ایسا کرنے کو حدیث کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے اور حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے (باب :۔ طب کا بیان ، اونٹ کے پیشاپ سے علاج ، جلد سوم حدیث ۶۴۶ چھ سو چھالیس صحیح بخاری) جس میں اونٹ کے دودھ اور پیشاب سے علاج کا ذکر ہے
    ہمارے اس فورم پر بہت سارے محدثین ہیں ماشاءاللہ ،
    آپ سب سے اس حدیث کی صحت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں اور اگر حدیث مبارکہ کی صحت صحیح ہے تو پیشاب سے(پیشاب تو نجس ہے) علاج؟
    اور حدیث میں ذکرہے کہ یہ حدیث حدود کی آیات کے نزول سے پہلے کی ہے اور مدینہ منورہ کا حوالہ دیا گیا ہے ۔۔۔ جبکہ آپ ﷺ نے نبوت کے تیرہ سال بعد مدینہ حجرت فرمائی۔

    اگر کوئی ہندو اس پر یہ سوال کرتا ہے کہ "ہم گائے کے پیشاب کو شفاء مانتے ہیں اور تم مسلمان اونٹ کے" تو فرق کیا ہے؟

    امید ہے ہمارے محدیثین کی جانب سے جلد جواب آئے گا۔

    جزاک اللہ خیر
    محمد خرم
    ریاض
  2. سلیمان

    سلیمان منتظم

    مراسلے:
    1,599
  3. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    اونٹ کے پیشاب میں شفا ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عکل کو بطور علاج پینے کا حکم دیا تھااورآج بھی سعودی عرب میں دیکھاجاتا ہے کہ لوگ اونٹنی کے دودھ میں اسکے پیشاب کو ملا کر پیتے ہیں برطانیہ والوں نے اس پر تحقیق کی ہے اور اسکے پیشاب اور دودھ سے فایدہ حاصل کرنے کیلیے انھوں نے اونٹپالنا شروع کردیا ہے۔۔۔ چونکہ اونٹنی کے پیشاب کے فایدہ کے سلسلے میں شرعی نص موجود ہے اسلیے بطور علاج وہ جایز ہے ۔ گاے یا دوسرے جانور کے پیشاب کے بارے میں کویی شرعی نص نہیں موجود ہے اسلیے اس پر وہ حکم نہیں لاگو ہوگا
    • زبردست زبردست x 1
  4. مون لائیٹ

    مون لائیٹ رکن

    مراسلے:
    15
    <فَلا وَرَبِّکَ لايُؤمِنُونَ حَتَّي يُحَکِّمُوکَ فِيمَا شَجَرَ بَينَہُم ثُمَّ لايَجِدُوا فِي اٴَنفُسِہِم حَرَجاً مِمَّاقَضَيتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيماً>[4] پس آپ کے پروردگار کي قسم ! کہ يہ ہرگز صاحب ايمان نہ بن سکيں گے جب تک آپ کو اپنے اختلاف ميں حًکم نہ بنائيں اور پھر جب آپ فيصلہ کرديں تواپنے دل ميں کسي طرح کي تنگي کا احساس نہ کريں اور آپ کے فيصلہ کے سامنے سراپا تسليم ہو جائيں)
    • متفق متفق x 1

اس صفحے کی تشہیر