"امت مسلمہ کی خاموشی برما کے مسلمانوں کے ظلم پر ...؟ "

alihassankhan54321 نے 'متفرق موضوعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏31 مئی 2015

  1. alihassankhan54321

    alihassankhan54321 رکن

    مراسلے:
    1
    درندگی میں ہلاکوخان اور چنگیزخان کو بہی کوسوں دور پیچھے دھکیل دیا۔

    مسلمان بچیوں کی عصمت دری۔عزتیں تار تار اور دیگر ممالک میں قبہ خانوں کی زینت بنایا جارہا ہیں۔

    ایسے میں امت مسلمہ کی بےحسی واللہ خون کے آنسو رلاتی ہے۔

    ہے معتصم باللہ جیسا جرنیل جو ایک بہن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے کفرستان کو اسلام کا گلشن بنا دے۔

    ہے کوئی ابن قاسم جو ہماری ماؤں بہنوں کی عزت تار تار ہونے سے بچائے۔ ان کی کٹی پٹی لاشوں کو کفن کا تحفہ دےسکے۔

    ہے کوئی ایوبی جیسا فرزند جو ان بےبس ماؤں بہنوں کو کفار کے نرغے سے آزاد کرائے۔

    ہے کوئ طارق بن زیاد جیسا جرنیل جو کشتیاں جلا کر کود پڑے اور دنیائے کفار کی اینٹ سے اینٹ بجادے۔
    • زبردست زبردست x 1
  2. سُہیل مِرزا

    سُہیل مِرزا رکن

    مراسلے:
    21
    میرے بھائی نے اُمتِ مُسلمہ کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیا ہے۔بہت ہی اہم سوال ہے کہ ہم سب مسلمان انفرادی اور اِجتماعی طور پر بےحِس اور بے بس کیوں ہیں؟ہمارے دین کا راج ایک عالمی طاقت کا راج رہا ہے جِس نے فارس اور روم کی شہنشائیت کو شکست دی۔مصر سے لیکر اِنڈونیشیا اورآج کے جنوبی افریقہ سے لیکر یورپ تک پھیلا۔ چین، روس، برِصغیر اور خراسان تک میں مسلمان کافی تعداد میں ہیں-اگر دنیا کی مجموعی آبادی چھ ارب گنی جاے تو اندازاً ہم دیڑھ ارب سے ہرگِز کم نہ ہوں گے۔اِس کے باوجود یہ کم مائیگی، بے چارگی کیوں کہ مسلمانوں کی جان، مال اور عزت سے ہنود، یہود ونصارہ باہم ایک ہو کر ہر طرح کا ظلم ڈھا رہے ہیں اور ہم کم و بیش باؤن مُلک ہونے کے باوجود کوئی آواز نہیں رکھتے!


    اسباب ان گِنت ہیں ۔ اِن میں سےہر ایک نہ صرف غور طلب ہے بلکہ حل طلب بھی اور یہ تبھی ممکن ہے جب مُسلم اُمہ اِنفرادی اور اِجتماعی طور پر نہایت ایمانداری سے خود احتسابی پر عمل پیرا ہو۔کہاں ہم سےکب اور کیا کیا غلطیاں سرزد ہوئیں یہ دیکھنا ہو گا۔غلط کو غلط کہنا اور غلطی کو غلطی تسلیم کرتے ہوئےاُس کی اِصلاح کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔

    مُسلمانوں پر زوال یقدم نہیں آیا بلکہ سِلسلہ وار آیا اور عروج سے زوال کا یہ سِلسلہ کئی صدیوں سے ہم پرآج بھی مسلط ہے۔ اِس زوال کو ہم پر غالِب کرنے میں اغیار کا ہدف تو تھا ہی خود ہم نے بھی مغلوب ہونے اور ہنوز رہنےمیں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی۔

    ہلاکودراصل قلعہ الٰموت کو تاراج، حشاشین کو ختم اور حسن بن صباح کو قتل کرنے آیا تھا۔ جاتے ہوئے خلیفۃ الوقت کو قتل اور بغداد کو مکمل تباہ کرتا گیا اور یہ سب اُس وقت ہوا جب ہلاکو کے محاصرے کو نظرانداز کرتے ہوئے خلیفہ کے حواری، درباری اور علماء ایک فضول اور لاحاصل بحث میں الجھے ہوئے تھےاور اُن کے ساتھ خلیفہ بھی۔موضوعِ بحث 'طوطا حرام ہے یا حلال' تھا!!!

    محمد بن هارون الرشيد کنیت أبو إسحاق جِسے عرفِ عام میں المعتصم باللہ کے لقب سے بھی یاد رکھا جاتا ہےآٹھواں عباصی خلیفہ تھا۔ حصولِ علم اور اشاعتِ علم کی طرف اتنا راغب نہ تھا جتنا سپہ گیری پر۔ غلمان یعنی ترک غلامون کی فوج اسی نے تیار کی بلکہ باقاعدہ باوردی فوج کا رواج اسی نے رائیج کیا۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔​
  3. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    139
    اہلِ علم دوستو! اسباب و علل کی بھول بھلیوں میں پڑتے جاؤ گے تو اور الجھتے جاؤ گے۔
    بات بہت سیدھی اور سادہ ہے۔ امت نے قرآن کو چھوڑ دیا تو قرآن نازل کرنے والے نے امت کو چھوڑ دیا۔
    قرآن کو اپنا لو، فلاح پا جاؤ گے۔ نہیں تو مزید رسوائیاں تمہاری منتظر ہیں۔
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    139
    جو اللہ کے آگے سرنگوں ہو جاتا ہے، عالم اس کا مطیع ہو جاتا ہے۔ جو اللہ کے آگے نہیں جھکتا اسے ہر ایرے غیرے کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔ صرف اللہ ہے جو اپنے آگے جھکنے والوں کو توقیر بخشتا ہے، اور کوئی نہیں!
    مکہ کا چارٹر اپنا لو، جینیوا تمہارے قدموں کی دھول ہے۔ نہیں تو تم سارے عالم کے قدموں کی دھول ہو۔
  5. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    139
    اپنے اپنے گھروں کو دیکھو! کوئی ایسا گھر ہے؟ جہاں صلاح الدین ایوبی، نورالدین زنگی، محمد بن قاسم؛ جیسی شخصیات کی تعمیر ہو سکے؟ کسے آوازیں دے رہے ہو؟ ان کو جن کے گلے کھونٹ چکے ہو؟ فلاح چاہئے تو ایک ایک سانس، ایک ایک لقمہ، ایک ایک قدم، ایک ایک لفظ، ایک ایک خیال کو اس ایک اکیلے اللہ کے حکم کے مطابق سنبھالنا ہو گا۔ یہی راستہ تھا اور یہی راستہ ہے؛ بس!
  6. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    139
    فلاح کے معانی زندگی کی لکیر کے اِس طرف تک محدود اُن کے لئے ہونے چاہئیں جن کے بار میں فیصل ہو چکا کہ اِس لکیر کے اُس پار اُن کے لئے کچھ نہیں۔ تمہارا تو سارا کچھ اِس لکیر کے اُس پار ہے! اور جو کچھ اِس لکیر کے اِس طرف ہے، وہ بھی در حقیقت اُس پار کے لئے ہے۔

    یاد دہانی: "وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو" ۔۔۔
  7. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    226
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    [​IMG]


    رخائن صوبے ميں روہنگيا کے باشندوں کی حالت زار علاقے کے بڑے انسانی سانحوں ميں سے ايک ہے۔

    روہنگيا خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ کئ نسلوں سے يہ باشندے بنيادی انسانی حقوق سے محروم رہے ہيں۔ اور امريکہ کے ليے يہ ديرينہ مسئلہ قابل تشويش رہا ہے۔

    اس معاملے پر توجہ کی ضرورت ہے


    Department Press Briefing - September 7, 2017


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

    Us Dot | Flickr
    • ناپسند ناپسند x 1
  8. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    226
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    [​IMG]


    رخائن صوبے ميں روہنگيا کے باشندوں کی حالت زار علاقے کے بڑے انسانی سانحوں ميں سے ايک ہے۔

    روہنگيا خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ کئ نسلوں سے يہ باشندے بنيادی انسانی حقوق سے محروم رہے ہيں۔ اور امريکہ کے ليے يہ ديرينہ مسئلہ قابل تشويش رہا ہے۔

    اس معاملے پر توجہ کی ضرورت ہے


    Department Press Briefing - September 7, 2017


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

    Us Dot | Flickr
    • ناپسند ناپسند x 1

اس صفحے کی تشہیر