اللہ پہلے لعنتی پر رحم کرے

ابن آدم نے 'سیاست و عدالت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏27 مارچ 2018

  1. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    598
    ہوا یوں کہ کسی کام سے ملتان روڈ پر آج جانا ہوا - اورنج ٹرین آخری مراحل میں ہے - اس کو دیکھ دیکھ افسوس ہوتا رہا کہ کس طرح قیمتی پیسہ محض شوق کی نظر کر دیا گیا -
    مجھے یاد ہے کہ جب میٹرو بنی تھی ، ہمارا موقف تھا کہ ان پینتیس ارب روپے سے تمام لاہور کی سڑکیں درست کر کے اچھا ٹرانسپورٹ سسٹم بنایا جا سکتا ہے - لیکن کون سنتا ہے ؟
    آج جب اورنج ٹرین پر دو سو ارب روپے کی بربادی دیکھی تو مجھے میٹرو بھی اچھی لگنے لگی ...جانتے ہیں کیوں ؟

    ایک بندہ کفن چوری کرتا تھا اور بدنام تھا ، مرتے وقت اس نے بیٹے کو بلایا اور کہا :
    "بیٹا تمام عمر برا کام کیا ، کچھ ایسا کرنا کہ لوگ مجھے اچھے لفظوں سے یاد کریں اور دعا دیں "
    بیٹے نے بھی کفن چوری کا کام شروع کیا لیکن وہ کفن چوری کر کے لاش کو کھلا چھوڑ دیتا تھا اور مزید یہ کہ لاش کی بے حرمتی بھی کر دیتا کہ .........
    لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو کہنے لگے کہ :
    "اللہ پہلے لعنتی پر رحم کرے کم از کم لاش کی عزت تو کرتا تھا "
    سو جناب اللہ میٹرو پر رحم کرے کہ اس کی نسبت چھ گنا کم پیسے کھا کے مری تھی - اس کے کم از کم ہر قدم پر سٹاپ تو ہیں ....یہاں ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ تک خاصا فاصلہ بھی ہے اور اتنی لمبی ٹرین کسی بھی سٹاپ پر دس پندرہ بندے لے کے آگے چلا کرے گی ، جنہوں نے بیچ کی کسی جگہ جانا ہو گا وہ کوئی چھوٹی سواری یا چنگ چی ڈھونڈا کریں گے - اور دو سو ارب روپے کا سیاپا کریں گے ----
    ہاں مگر ہمارے بعض دوست اس ٹرین کی خوبصورتی کی تصویریں لگا لگا کے کہا کریں گے کہ :
    "دیکھیں اب لاہور بھی یورپ نظر آتا ہے ...."
    ایسے ہی جیسے کبھی کبھی غریب کے " بال " پیسے جوڑ کے یا دو دن فاقہ کر کے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں کھانا کھا آتے ہیں اور پھر سال بھر نشے میں رہتے ہیں ...بھائی اورنج ٹرین کو ہی نہ دیکھو ..اس کے پیچھے باقی پنجاب کی سڑکیں بھی دیکھو ، لاہور کی گلی محلے کی سڑکوں کو بھی دیکھو ، چھوٹے شہروں کی سڑکوں کو بھی دیکھو ...کہ جنہوں نے غریب کے " بال " کی طرح آپ کے ایک دن کی عیاشی کے لیے عمر بھر کا فاقہ کر لیا ہے -

    غضب خدا کا دو سو ارب روپے سے زیادہ رقم صرف ایک روٹ پر لگا دی ...خدا کا خوف نکل گیا ، ورنہ اس روٹ پر میٹرو بھی کافی تھی ...لیکن اس کی چمک اب کم تھی اور میاں برادران کو کوئی چمکتی شے پیش کرنا تھی ........
    چلو یار کوئی بات نہیں ، مریض تو ویسے بھی مرتے ہی رہتے ہیں غریب بھی بھوک کے عادی ہیں ، باقی پنجاب بھی بھاڑ میں جائے ...لاہور کا یہ حصہ یورپ تو لگتا ہے ناں
    ابو بکر قدوسی
  2. nabeel

    nabeel رکن

    مراسلے:
    53
    بات تو آپنے سچ کہی ہے۔ لیکن عوام بہت بے روزگار ہے اگر یہ پیسہ عوام کے روزگا پر لگایا جاتا تو ہی حوشحالی آسکتی ہے لیکن رونا اسی نات کا ہے کہ ہماری سُنے گا کون۔
    صرف ایک لاہور کو ترجیح دی جا رہی ہے کیا باقی شہر والوں نے ان کو منتحب نہیں کیا تھا ؟
    لیکن ہم کو نہ میٹرو چاہیۓ نہ ہی ٹرین کا منصوبہ۔ حدارہ بس عوام کو حوشحال کرو میرٹ کو عام کرو۔ پڑھے لکھے تبکے کو آگے بڑھنے کا موقع دو۔

اس صفحے کی تشہیر