عالمی خبر افغانستان ميں بربريت کی تازہ مثال

fawad نے 'خبروں کی دنیا' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏17 اگست 2018

  1. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    278
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    [​IMG]


    Kabul suicide bomber kills 48 in tuition centre attack - BBC News


    افغان عوام بدستور دہشتگردوں اور شدت پسندوں کی بربريت کا شکار –

    خبروں کے مطابق کابل میں ايک تعليمی مرکز پر ہونے والے خودکش حملے میں متعدد افغان شہری جانبحق

    The Latest: UNICEF: Kabul attack on children ‘deplorable’ | Miami Herald


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    https://www.instagram.com/doturdu/

    Us Dot | Flickr
  2. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    278
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    [​IMG]


    طالبان کا اپنے ہی معاہدے سے انحراف کا اعلان –


    افغانستان ميں بنيادی طبی سہوليات کی فراہمی پر مامور ريڈکراس کا ادارہ بھی اب ان کے نشانے پر


    https://twitter.com/BBCUrdu/status/1029693212473126915



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach - Home | Facebook

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

    Us Dot | Flickr
  3. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    278
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    مائن ڈيٹيکشن سينٹر کے عہديداروں کی حاليہ رپورٹ کے مطابق افغانستان ميں ہر ماہ 200 سے زائد شہری بارودی سرنگوں کی زد ميں آ کر ہلاک ہو جاتے ہيں۔

    Up To 200 People Fall Victim To Mines Every Month | TOLOnews

    افغانستان ميں داعش اور طالبان کے دہشت گردوں کی پے در پے شکستوں کے باوجود ان بارودی سرنگوں کی تباہ کاريوں کے سبب عام شہريوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔


    ان دہشت گردوں نے اپنے اقدامات سے ثابت کيا ہے کہ اپنے کھوکھلے نعروں اور عوام کی بہتری کے ليے اپنی خود ساختہ خلافت کے دعوؤں کے برعکس، ان مجرموں نے ہميشہ نہتے شہريوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکميل کے ليے استعمال کيا ہے۔

    دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانا تا کہ اپنے ايجنڈے اور تسلط کو برقرار رکھنے کے ليے زيادہ سے زيادہ ہلاکتوں کو يقينی بنايا جاۓ، ان کی درندگی اور انسانی جانوں کے ليے بے قدری کو واضح کرتا ہے۔

    يہ رپورٹ ان راۓ دہندگان کی آنکھيں کھولنے کے ليے کافی ہے جو طالبان کی مبينہ "عظيم کاميابيوں" کا تذکرہ اس طرح کرتے ہيں کہ گويا ان کی تمام کاوشيں عام افغان شہريوں کو بيرونی طاقتوں کے ظلم سے نجات دلانے کے ليے ہيں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    USUrduDigitalOutreach - Home | Facebook

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

    Us Dot | Flickr
  4. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    278
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانستان ميں فعال ان پرتشدد انتہا پسند دہشت گردوں کی حقيقت عوام پر واضح ہوتی جا رہی ہے جو خود کو بيرون ممالک سے آۓ ہوۓ مبينہ جارح قوتوں کے مقابلے ميں آزادی کے سپاہيوں کے طور پر پيش کرتے تھے۔

    حاليہ واقعات ميں دو سو سے زائد افغان فوجی، پوليس اہلکار اور عام شہری ان مجرموں کی کاروائيوں کے نتيجے ميں ہلاک ہو چکے ہيں جو اس بات پر بضد ہيں کہ وہ عام شہريوں کو آزاد کروانے کے ليے قابض قوتوں کے خلاف لڑ رہے ہيں۔

    https://www.nytimes.com/2018/08/12/...l?smprod=nytcore-ipad&smid=nytcore-ipad-share

    کسی بھی ذی شعور کے ليے يہ سمجھنا دشوار ہے کہ کس پيمانے اور معيار کو بنياد بنا کر يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ افغانستان پر غير ملکی تسلط ہے، کيونکہ يہ تو افغانستان کے مقامی لوگ ہيں جن کے ووٹ لے کر موجود حکمران برسر اقتدار آۓ ہيں اور اپنی ہر پاليسی اور اقدامات کے ليے وہ اپنے ووٹرز کے سامنے جواب دہ ہيں۔

    طالبان کے حمايتيوں اور ترجمانوں کی جانب سے اپنی نام نہاد فتح کے غير منطقی اور احمقانہ دعوے کوئ غير متوقع يا انہونی بات نہيں ہے باوجود اس کے کہ تمام تر شواہد اس کے برعکس ہيں۔

    دہشت گرد تنظيموں اور طالبان کے سپورٹرز کے نقطہ نظر سے اگر ديکھيں تو يہ بات سمجھنا آسان ہے کہ وہ کيونکر "بيرونی حملہ آوروں" کے جھوٹے نعرے کا سہارا لينے کے ليے بے تاب ہيں کيونکہ آزادی کی تحريک کے دلفريب دعوے کے سوا ان کے پاس اپنی کاروائيوں کے ليے کسی بھی قسم کی عوامی حمايت کرنا ممکن نہيں ہے۔ تاہم گزشتہ دو دہائيوں کے دوران افغانستان کے عام شہريوں کے خلاف ان کے بلاتفريق غير انسانی حملوں نے ان کے اہداف اور اصل فطرت کو سب پر عياں کر ديا ہے جس کی بدولت وہ اب افغانستان کے عوام اور ملک کے مستقبل کے ليے غير اہم ہو چکے ہيں۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    https://www.instagram.com/doturdu/

    Us Dot | Flickr
  5. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,187
    افغان طالبان سے قطر مذاکرات کو امریکی حکومت کیسے دیکھتی ہے؟
  6. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,187
    اور افغان حکومت میں بیٹھے مختلف افغان دھڑے؟
  7. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    278
    طالبان – جدوجہد آزادی يا دہشت گردی؟


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ايک کم سن بچے کی آب بيتی جس کی کہانی واضح کرتی ہے کہ دہشت گردوں کو اس بات کا کوئ ملال نہيں ہے کہ وہ اپنے مکروہ عزائم کی تکميل کے ليے معصوم بچوں کو خودکش حملہ آور بنا رہے ہيں۔

    https://twitter.com/Ujalay_UR/status/1052935658661142533


    کسی بھی قسم کی دليل يا تاويل بزدلی کے اس عمل پر پردہ ڈالنے کے ليے کافی نہيں ہے جس ميں دہشت گردوں کی جانب سے کمسن بچوں کو بطور ہتھيار استعمال کر کے اس پر فخر کيا جاتا رہا ہے۔

    اپنے منفی پروپيگنڈے کی تشہير سے بچوں کے اذہان کو پراگندہ کرنا اور پھر خودکش حملوں کے بعد فتح کے دعوے کرنا ايسے اعمال ہيں جن سے انتہا پسندوں کی سنگدلی بے نقاب ہو جاتی ہے۔

    يہ امر حيران کن ہے کہ اب بھی چند راۓ دہندگان موجود ہيں جو اس سوچ کو قابل ستائش سمجھتے ہيں جو ايسے اقدامات کا محرک بنتی ہے اور پھر عام شہريوں کے خلاف پرتشدد کاروائيوں کو بيان کرنے کے ليے ان دہشت گردوں کے اقدامات کو بہادری اور جرات سے تعبير کيا جاتا ہے۔

    اس تاويل کو درست تناظر ميں سمجھنے کے ليے ايک حاليہ رپورٹ کا لنک پيش ہے جس ميں ان معصوم بچوں کا حوالہ ديا گيا ہے جنھيں يہ بے رحم دہشت گرد اغوا کر کے خود کش حملہ آور بننے کی ترغيب ديتے ہيں اور پھر انھی افغان شہريوں کے خلاف استعمال کرتے ہيں جن کے بارے ميں يہ دہشت گرد دعوی کرتے ہيں کہ ان کی تمام تر "جدوجہد" کا مقصد "بيرونی حملہ آوروں" سے انھيں حفاظت اور نجات فراہم کرنا ہے۔




    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
  8. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    278
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    [​IMG]


    https://www.washingtonpost.com/worl...ory.html?noredirect=on&utm_term=.d1f6e1559919

    ايک مرتبہ پھر دہشت گردوں نے دانستہ اپنے خونی ايجنڈے کی تکميل کے ليے عبادت گاہ کو نشانہ بنايا، اس بات کی پرواہ کيے بغير کہ عبات گزار ايک مقدس دينی فريضے کی ادائيگی کے ليے وہاں جمع تھے۔

    ايک بار نہيں بلکہ متعدد بار دہشت گرد تنظيميں اور ان کے سرغنہ اس بات کی تشہير کرتے رہے ہيں کہ وہ عام انسانوں کی بہتری کے ليے کوشاں ہيں ليکن اس کے باوجود وہ انھی عام انسانوں کو نشانہ بناتے ہيں جن کے تحفظ کے وہ دعوے کرتے نہيں تھکتے۔

    افغانستان ميں مسجد پر حاليہ حملے سے ايک بار پھر يہ ثابت ہو گیا ہے کہ دہشت گرد شريعت اور جہاد کے نعرے صرف اپنے ايجنڈے کی تشہير کے ليے لگاتے ہيں تا کہ نوجوانوں کو اپنی صفوں ميں بھرتی کر سکيں۔ حقيقت ميں ان کی نام نہاد جدوجہد کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ بصورت ديگر اس بات کی کيا توجيہہ پيش کی جا سکتی ہے کہ عين نماز کے دوران مسجد کو نشانہ بنايا گيا۔

    اور يہ کوئ پہلا موقع نہيں ہے کہ حملے کو کامياب بنانے کے ليے مذہبی مقام کا دانستہ انتخاب کيا گيا ہے۔ افغانستان ميں دہشت گردی کے حاليہ حملوں ميں دانستہ گنجان آباد علاقوں، مساجد، سياسی جلسوں، بازاروں اور يہاں تک کہ سکولوں کو بھی نشانہ بنايا گيا ہے۔

    ستم ظريفی ديکھيں کہ وہی انتہا پسند عناصر جنھيں مذہبی عبادات کا بھی کوئ لحاظ نہيں ہے، وہی اپنی جدوجہد کی عظمت کے دعوے کرتے نہيں تھکتے ہيں۔ مذہبی عبادت گاہوں پر حملے کرنا کوئ بہادری اور عظمت کا کام نہيں ہے۔

    اس دہشت گرد حملے سے ايک بار پھر يہ واضح ہو گيا ہے کہ دہشت گردی ايک عالمی عفريت ہے۔ يہ کسی ايک مذہب يا ملک تک محدود نہيں ہے۔ يہ واقعہ ان راۓ دہندگان کی آنکھيں کھولنے کے ليے بھی کافی ہے جو اب بھی اس سوچ پر يقي‍ن رکھتے ہيں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف امريکا کی ہی جنگ ہے۔ وقت کا تقاضہ يہی ہے کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کو معاشرے ميں اپنی مخصوص سوچ کو مسلط کرنے کے ليے استمعال کرنے کے رجحان کو مشترکہ طور پر رد کر کے اس کے خلاف کاوشيں کی جائيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

اس صفحے کی تشہیر