افغانستان سے متعلق چند اہم عوامی مغالطے ــــــــــــــــ عامر ہاشم خاکوانی

فلک شیر نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏29 اگست 2017

  1. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,095
    [​IMG]
    • زبردست زبردست x 1
  2. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    159
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    يہ بات باعث حيرت ہے کہ کچھ تجزيہ نگار اور راۓ دہندگان اب بھی افغانستان ميں متحرک مسلح گروہوں کے مقاصد اور ارادوں کے حوالے سے اپنی سوچ اور نظريات ميں ابہام اور تذبذب کا شکار ہيں اور تمام تر شواہد کے باوجود بظاہر حالت انکارميں ہيں۔ ان مجرموں کی اصل فطرت کے حوالے سے شک وشہبے کی کيا گنجائش رہ جاتی ہے جبکہ وہ افغانستان ميں بھی وہی خونی مہم جوئ کر رہے ہيں جو پاکستان ميں بھی جاری ہے۔

    عظمت اور جرات جيسے الفاظ دہشت گردوں کے ان مجرمانہ افعال کے ضمن ميں استعمال نہيں کيے جا سکتے ہيں جن کی تمام تر حکمت عملی اس امر پر مرکوز ہوتی ہے کہ انتہائ بزدلانہ طريقے سے زيادہ سے زيادہ بے گناہ افراد کو ہلاک کيا جاۓ، اس بات سے قطع نظر کہ اپنے جرائم کی توجيہہ کے ليے وہ کوئ مقدس تاويل يہ تحريک کے حوالے کيوں نا پيش کريں۔

    يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ افغانستان ميں دہشت گرد تنظيميں اور ان کی حمايت کرنے والے بغير کسی منطق کے بدستور افغانستان کو ايک ايسی سرزمين قرار ديتے ہيں جس پر بيرونی قوتوں نے قبضہ کر رکھا ہے، باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان ميں افغانيوں ہی کے زير قيادت ايک فعال حکومت ملک کا نظام اور نظم ونسق چلا رہی ہے۔ تمام تر حکومتی مشينری، وسائل، طرز حکومت اور رياست سے متعلق اہم فيصلہ سازی کے اختيارات افغانستان کے منتخب نمايندوں کے ہاتھوں ميں ہيں۔ امريکہ سميت کوئ بھی بيرونی قوت افغانستان کے علاقوں پر قابض نہيں ہے۔

    امريکی اور نيٹو افواج کی موجودگی محض مقامی افغان فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے ليے ہے جو دہشت گردی کے ان ٹھکانوں کے قلع قمع کی کاوش ميں لگے ہوۓ ہيں جو افغانستان ميں جاری عدم استحکام اور افراتفری کے ذمہ دار ہيں۔

    ستم ظريفی ديکھيں کہ افغانستان ميں عسکری تنظيموں کے ترجمان اور قائدين بدستور خطے ميں شہری اموات کے بارے ميں تشويش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہيں۔ مگر چاہے وہ بچوں کو خودکش حملہ آور بنا کر انھيں بطور ہتھيار استعمال کرنے کے کا معاملہ ہو يا خود ساختہ بمبوں کا بے دريخ استعمال، ان کے طريقہ واردات سے يہ واضح ہے کہ ان کا واحد مقصد بلاتفريق زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنا ہے تا کہ حملے کی "افاديت" کو بڑھايا جا سکے۔

    سرحد کے دونوں جانب متحرک مختلف مسلح گروہوں ميں تفريق کرنے کے ليے مختلف تبصرہ نگاروں اور سکالرز نے جو بھی تاويليں اور دلائل گھڑ رکھے ہيں ان سے قطع نظر دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی ايک ايسا ناقابل ترديد ثبوت ہے جو نا صرف يہ کہ ان گروہوں کے باہمی تعلقات اور فکری ہم آہنگی کو سب پر آشکار کر ديتی ہے بلکہ دہشت اور بربريت پر بنی مہم کے ذريعے سياسی وقعت اور اثرورسوخ کے حصول کی خواہش بھی سب پر عياں ہو چکی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required
    • ناپسند ناپسند x 1
  3. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    159
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    افغانستان ميں مختلف دھڑوں کے درميان سياسی نوعيت کے اختلافات، کرپشن جيسے معاملات اور معاشرے کی ازسرنو تعمير يقینی طور پر ايسے چيلنجز ہيں جو افغانستان کی عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کے حوالے سے درپيش ہيں۔ تاہم ان مسائل کی حقيقت کے باوجود يہ ممکن نہيں ہے کہ اس ملک کے باشندے برسوں پر محيط طالبان کی خون ريزی اور قتل وغارت کو درگزر کر ديں گے يا اسے پس پشت ڈال ديں گے۔

    طالبان سميت مختلف دہشت گرد گروہوں کی جانب سے گزشتہ ايک دہائ کے دوران کيے جانے والے حملوں کا ايک سرسری جائزہ ليں اور پھر يہ فيصلہ کريں کہ کيا يہ دعوی کيا جا سکتا ہے کہ يہ حملے عام لوگوں کی بہتری کے ليے کيے گۓ تھے؟ آزادی کے حصول کے لغو دعوؤں اور مذہبی نعروں سے ہٹ کر اگر آپ ان کی کاروائيوں کو ديکھيں تو ان کی حقيقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ ان کی تمام تر مہم جوئ طاقت کے حصول اور ان لوگوں پر حکومت کے ليے ہے جن کو آزاد کروانے کے يہ دعوے کرتے ہيں۔

    يہ دعوی صريح غلط ہے کہ ايک ايسی سوچ يا فلسفہ جو نا صرف يہ کہ تشدد کی ترغيب دے بلکہ کم سن بچوں کو خودکش بمبار بنا کر ہتھيار کے طور پر استعمال کرنے کو درست قرار دے وہ مذہبی ثقافتی يا روايتی وابستگيوں سے قطع نظر کبھی بھی عوامی پذيرائ حاصل کر سکتی ہے۔ بلکہ حقيقت تو يہ ہے کہ گزستہ ايک دہائ کے دوران دہشت گردی کی لہر اور ان دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے دانستہ ايک حکمت عملی کے تحت بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانا ايسے عوامل ہيں جن سے عام لوگ اب يہ شعور اور ادارک رکھتے ہيں کہ ان کا مستقبل کبھی بھی ان عناصر کے ہاتھوں ميں محفوظ نہيں رہ سکتا جو خوف اور تشدد کی بنياد پر اپنا طرز زندگی مسلط کرنے پر يقين رکھتے ہيں۔

    اگر طالبان کی فرسودہ سوچ اور نظريات جيت رہے ہوتے، جيسا کہ آپ نے دعوی کيا ہے تو پھر آپ اس بارے ميں کيا کہيں گے کہ افغانستان کی عوام نے طالبان کی جانب سے گزشتہ صدارتی انتخابات کے بائيکاٹ کے مطالبے کو يکسر مسترد کر ديا تھا جس کے نتيجے ميں ملک کا موجودہ حکومتی نظام تشکيل پايا ہے؟ يہ افغانستان کی تاريخ ميں ايک اہم سنگ ميل تھا کيونکہ يہ عوام کی جانب سے اس نظريے اور سوچ کی شکست تھی جو آپ کے دعوے کے مطابق بدستور مقبول عام ہے۔




    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

    Us Dot | Flickr
    • ناپسند ناپسند x 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91
    آپ جہاں بھی جائیے گا، دجال کی آنکھیں اور کان آپ کے دونوں طرف چلیں گے۔ اور وہ اتنا شور کرے گا کہ آپ کو کان پڑی آواز سنائی نہ دے، سوائے اس (دجال) کی آواز کے۔ وہ آپ کی آنکھوں پر اپنی پسند کی رنگت کے کھوپے چڑھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔ کرائے کے ٹٹو اور دینی حمیت سے محروم لوگ اس کے پاس بہت ہیں۔ جن کے لہو کی پلیدی ان کی زبانوں سے پسینہ بن کر ٹپک رہی ہو گی اور ان کے اندر کی بدبو کا دباؤ ان کی سانسوں میں ہانپ رہا ہو گا۔


    فلک شیر صاحب۔
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1

اس صفحے کی تشہیر