اعجازِ بیان ۔۔ مشاہیر کی نثری تخلیقات سے خوشہ چینی

محمد یعقوب آسی نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏6 ستمبر 2017

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    143
    محمد حسین آزاد کی "آبِ حیات" سے ایک پیراگراف


    ooooooo​

    ترجمہ اور تصنیف کے تجربہ کار جانتے ہیں کہ ان کی عبارت میں کسی زبان کا اصل لفظ جو اپنا مطلب بتا جاتا ہے، سطر سطر بھر عبارت میں ترجمہ کریں تو بھی وہ بات حاصل نہیں ہوتی جو مجموعہ خیالات کا اور اِس کے صفات و لوازمات کا اُس ایک لفظ سے سُننے والے کے سامنے آئینہ ہو جاتا ہے وہ ہمارے سطر بھر سے پُورا نہیں ہوتا۔ مثلاً چند کوی اپنی نظم میں سلطان کی جگہ اگر راجہ بلکہ مہاراجہ لکھ دیتا تو بھی جو صفات اور اس کے لوازمات نیک یا بد، رحم یا عدل، زور یا ظلم یہ الفاظ اُس کی نظم میں دکھا رہا ہے، وہ بات راجہ مہاراجہ سے ممکن نہیں، اسی طرح لفظ سلام کہ اِس کے مطلب کا حق خواہ ڈنڈوت خواہ پرنام کوئی لفظ ادا نہیں کر سکتا۔ نظیر اس کی آج انگریزی کے سینکڑوں لفظ ہیں۔ اگر ترجمہ کریں تو سطروں میں بھی مطلب پورا نہیں ہو سکتا، مثلاً ایک ہندستانی شخص اپنے دوست سے کہتا ہے۔ "لاٹ صاحب چھ بجے اسٹیشن پر پہنچیں گے۔ پروگرام کے بموجب شہر کی سیر کریں گے۔ ۵ بجے آنا، وہیں چل کر تماشا دیکھیں گے، اب خواہ صحیح خواہ بگڑے، مگر جو اصلی لفظ آپ نے اپنے معنی سننے والے کو سمجھا رہے ہیں، کئی کئی سطروں میں ترجمہ کئے جائیں تو بھی حقِ مطلب بجا نہ لا سکیں گے، آخر پندرہ صدی عیسوی میں سکندر لودھی کا زمانہ تھا، اتنا ہوا کہ اول کایستھ فارسی پڑھ کر شاہی دفتر میں داخل ہوئے اور اب ان لفظوں کو اُن کی زبانوں پرانے کا زیادہ موقع ملا، رفتہ رفتہ اکبر کے عہد سے کہ مسلمان شیر و شکر ہو گئے۔ یہ نوبت ہوئی کہ اِدھر بادشاہ اور اس کے اعلیٰ درجہ کے اہل دربار نے جبہ و دستار کے ساتھ داڑھیوں کو خدا حافظ کہا، اور جامے پہن کر کھڑکی دار پگڑیاں باندھ بیٹھے، اِدھر ہندو شرفا بلکہ راجہ مہاراجہ ایرانی لباس پہننے اور فارسی بول کر فخر کرنے لگے، بلکہ مرزا کے خطاب کو بڑے شوق سے لینے لگے۔
    ooooooo​
    فقط ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد یعقوب آسی (ٹیکسلا) پاکستان​
    • زبردست زبردست x 2
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    143
    محمد حسین آزاد کی "آبِ حیات" کے باب "زبانِ اردو کی تاریخ" کی آخری سطور


    اگر شائستہ قوموں کی انشاء پردازی سوال کرے کہ اُردو کی انشاء کیوں اس حالت میں مبتلا رہی؟ تو حاضر جوابی فوراً بول اُٹھے گی کہ قوم کی انشاء پردازی بموجب اس کی حالت کے ہوتی ہے اور خیالات اس کے بموجب حالات ملک اور تربیت ملکی کے ہوتے ہیں، جیسی ہندوستان کی تعلیم و شائستگی تھی، اور بادشاہوں اور امیروں کی قدردانی تھی ویسی ہی انشا پردازی رہی اور خاتمہ کلام اس فقرہ پر ہو گا کہ کوئی پرند اپنے بازوؤں سے بڑھ کر پَر نہیں مار سکتا، اس کے بازو فارسی، سنسکرت، بھاشا وغیرہ تھے۔ پھر اُردو بیچاری انگلینڈ یا روم یا یونان کے محلوں پر کیونکر جا بیٹھتی۔ مگر حقیقت میں عقدہ اس سوال کا ایک اور گرہ میں بند ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک شے کی ترقی کسی ملک میں اسی قدر زیادہ ہوتی ہے، جس قدر شے مذکور کو سلطنت سے تعلق ہوتا ہے۔

    یورپ کے ملکوں میں قدیم سے دستور ہے کہ سلطنت کے اندرونی اور بیرونی زور قوم کی ذاتی اور علمی لیاقتوں پر منحصر ہوتے تھے اور سلطنت کے کل انتظام اور اُس کے سب قسم کے کاروبار، انہی کے شمول اور انہی کی عرق ریز تدبیروں سے قرار پاتے تھے، یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کی تجویزوں کی بنیاد علمی اور عقلی اور تاریخی تجربہ کے زوروں پر قائم ہوتی تھی، پھر لیاقتِ منحصر بھی سینکڑوں ہی میں منحصر نہیں بلکہ ہزاروں میں پھیلی ہوئی تھی، اس میں جہاں اور مہماتِ سلطنت ہیں وہاں ایک یہ بھی تھا کہ ہر امر تنقیح طلب جلسہ عام کے اتفاق رائے سے وابستہ تھا تحریروں اور تقریروں کے موقع پر جب ایک شخص جلسہ عام میں استادہ ہو کر کوئی مطلب ادا کرتا تھا تو اِدھر کی دنیا اُدھر ہو جاتی تھی، پھر جب طرفِ ثانی اس کے مقابلہ میں جواب ترکی بر ترکی دیتا تھا تو مشرق کے آفتاب کو مغرب سے طلوع کر دیتا تھا اور اب تک بھی فقط تقریروں اور تحریروں کے زور سے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو متفق کر کے ایک رائے سے دوسری رائے پر پھیر لیتے ہیں، خیال کرنا چاہیے کہ ان کے بیان میں کیسی طاقت اور زبان میں کیا کیا زور ہوں گے، برخلاف ہندوستان کے یہاں کی زبان میں اگر ہوئے تو ایک بادشاہ کی خوش اقبالی میں چند شعراء کے دیوان ہوئے جو فقط تفریح طبع اور دل لگی کا سامان ہے، کجا زمین، کجا آسمان، نہ وہ جوہر پیدا ہوا نہ کسی نے اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا۔

    باوجود اس کے اُردو کی خوش اقبالی اور خوش رواجی قابلِ رشک ہے، کیونکہ اس کی اصل تو برج بھاشا ہے جو اپنی بہارِ جوانی میں فقط ایک ضلع میں لین دین کی زبان تھی، خود اُردو دلی سے نکلی۔ جس کا چراغ دلی کی بادشاہت کے ساتھ گل ہونا چاہیے تھا، پھر بھی اگر بیچوں بیچ ہندوستان میں کھڑے ہو کر آوازیں دیں کہ ان ملک کی زبان کیا ہے تو جواب یہی سنیں گے کہ اُردو اس کے ایک کنارے مثلاً پشاور سے چلو تو اول افغانی، اٹک اُترے تو پوٹھواری کچھ اور ہی کہتے ہیں، جہلم تک داہنے پر کشمیر پکار رہا ہے کہ یوروَلا، یوروَلا، یعنی اِدھر آؤ، بائیں پر، ملتان کہتا ہے کہ کتھے گھنیا، یعنی کہاں چلے، آگے بڑھے تو وہ بولی ہے کہ پنجابی خاص اسی کو کہتے ہیں، اس کے بائیں پر پہاڑی ایسی زبان ہے کہ تحریر و تقریر سب سے الگ ہے۔ ستلج اُتریں تو پنجابیت کی کمی سے لوگوں کی وضع و لباس میں بھی فرق شروع ہوتا ہے، دلّی پہنچے تو اور ہی سماں بندھا ہوا ہے، میرٹھ سے بڑھے تو علی گڑھ میں بھاشا سے مِلا جُلا پورب کا انداز شروع ہو گیا۔ کانپور، لکھنؤ سے الہ آباد تک یہی عالم ہے، جنوب کو ہٹیں تو مارواڑی ہو کر گجرأتی اور دکھنی ہو جاتی ہے، پھر ادھر آئے تو آگے بنگالہ ہے اور کلکتہ پہونچ کر تو عالم گونا گوں خلقِ خدا اور ملکِ خدا ہے، جس کا امتیاز حدِ انداز سے باہر ہے۔

    میرے دوستو تم جانتے ہو کہ ہر شے کی اصلیت اور حُسن و قبح کے واسطے ایک مقام ایسا ہوتا ہے جیسے سِکہ کے لئے ٹکسال، کیا سبب ہے کہ ابتداء میں زبان کے لئے دِلی ٹکسال تھی؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ دارالخلافہ تھی، دربار ہی میں خاندانی اُمراء اور امیر زادے خود صاحب علم ہوتے تھے، اِن کی مجلسیں اہلِ علم اور اہلِ کمال کا مجمع ہوتی تھیں جن کی برکت سے طبیعتیں گویا ہر شے کے سلیقے اور شائستگی اور لطافت و ظرافت کا قالب ہوتی تھیں، اسی واسطے گفتگو، لباس، ادب، آداب نشست، برخاست بلکہ بات بات ایسی سنجیدہ اور پسندیدہ ہوتی تھی کہ خواہ مخواہ سب کے دل قبول کرتے تھے۔ ہر شے کے لئے ہمیشہ نئی نئی تراش اور نئی نئی اصلاحیں اور ایجاد و اختراع وہاں سے ہوتے تھے اور چونکہ دارالخلافہ میں شہر شہر کا آدمی موجود تھا، اس لئے وہ دل پذیر ایجاد اور اصلاحیں ہر شہر میں جلد عام ہو جاتی تھیں چنانچہ بہادر شاہ سے پہلے دلی ہر بات کے لئے سند رہی، اور انہی صفتوں سے لکھنؤ نے بھی سندِ افتخار حاصل کی۔

    لکھنؤ کو دیکھ کر سمجھ لو کہ دل پسند ایجادوں اور رنگین باتوں کا ایجاد ہونا کسی شہر کے اینٹ پتھر کی تاثیر نہیں ہے جہاں شائستہ اور رنگین مزاج لوگ جمع ہو گے اور دلپذیر باتوں کے سامان موجود ہوں گے، وہیں سے دو پھول کھلنے لگیں گے، چنانچہ وہی دلی کے لوگ اور اُن کی اولاد تھی کہ جب تباہی سلطنت اور آبادی لکھنؤ کے سبب سے وہاں پہنچے تو چند روز میں وہی ہی تراشیں وہاں سے نکلنے لگیں، لکھنؤ دارالسلطنت ہو گیا اور اس کے ضمن میں زبان بھی دلی کی اطاعت سے آزاد ہو گئی۔ اس آزادی کی ناسخ، آتش، ضمیر، خلیق وغیرہ اہلِ کمال نے بنیاد ڈالی اور انیس، دبیر، رند، خواجہ وزیر اور سرور نے خاتمہ کر دیا، اُنھوں نے زبان کو ترقی دی، مگر اکثر اُن میں ایسے ہوئے کہ جنگل کے صاف کرنے کو اُٹھے تھے مگر اس میں دریا کا دہانہ لا ڈالا، یعنی صفائی زبان کی جگہ لغات کی بوچھاڑ کر دی۔ یہاں تک کہ لکھنؤ کا ورق بھی زمانہ نے اُلٹ دیا۔

    اب آفتاب ہماری ملکہ آفاق کا نشان ہے جسے حکم نہیں کہ ان کی قلمرو کے خط سے باہر حرکت کر سکے، ڈاکوں اور ریل گاڑیوں نے پورب سے پچھم تک دوڑ کر بھانت بھانت کا جانور ایک پنجرے میں بند کر دیا، دلی برباد، لکھنؤ ویران، دونوں کے سندی اشخاص کچھ پیوندِ زمین ہو گئے کچھ دربدر خاک بسر اب جیسے اور شہر ویسے ہی لکھنؤ جیسے چھاؤنیوں کے بازار ویسی ہی دلی بلکہ اس سے بھی بدتر کوئی شہر ایسا نہیں رہا، جس کے لئے لوگوں کی زبان عموماً سند کے قابل ہو، کیونکہ شہر میں ایسے چیدہ اور برگزیدہ اشخاص جن سے کہ وہ شہر قابل سند ہو صرف گنتی کے لوگ ہوتے ہیں، اور وہ زمانہ کی صدہا سالہ محنتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، اُن میں سے بہت مر گئے کوئی بڈھا جیسے خزاں کا مارا پتہ کسی درخت پر باقی ہے، اس بڈھے کی آواز کمیٹیوں کے غل اور اخبار کے نقار خانوں میں سُنائی بھی نہیں دیتی، پس اب اگر دلی کی زبان کو سندی سمجھیں تو وہاں کے ہر شخص کی زبان کیونکر سندی ہو سکتی ہے، ہوا کا رُخ اور دریا کا بہاؤ نہ کسی کے اختیار میں ہے نہ کسی کو معلوم ہے کہ کدھر پھرے گا، اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اب زبان کیا رنگ بدلے گی، ہم بھی جہاِز بے ناخدا ہیں، توکل بخدا کر بیٹھے ہیں، زمانہ کے انقلابوں کو رنگِ چمن کی تبدیلی سمجھ کر دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں، آزاد :
    قسمت میں جو لکھا تھا سو دیکھا ہے اب تلک​
    اور آگے دیکھیے ابھی کیا کیا ہیں دیکھتے

    *******​
  3. توصیف یوسف

    توصیف یوسف رکن

    مراسلے:
    3
    wah

    Sent from my SM-G610F using Tapatalk
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کی تشہیر