اذان کے بعد کی دعائیں اور اذکار

عبد الرحمن یحیی نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏10 جنوری 2015

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی رکن

    مراسلے:
    295
    1 ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " جب مؤذن اللہ اكبر اللہ اكبر كہے تو تم بھی اللہ اكبر اللہ اكبر كہو، پھر مؤذن كے اشھد ان لا الہ الا اللہ كہنے پر تم بھى اشھد ان لا الہ الا اللہ كہو، پھر وہ اشھد ان محمدا رسول اللہ كہے تو تم بھى اشھد ان محمدا رسول اللہ كہو، پھر وہ حى على الصلاۃ كہے، اور تم لا حول و لا قوۃ الا باللہ كہو پھر وہ حى على الفلاح كہے تو تم لا حول ولا قوۃ الا باللہ كہو، پھر وہ اللہ اكبر اللہ اكبر كہے تو تم بھى اللہ اكبر اللہ اكبر كہو، پھر وہ لا الہ الا اللہ كہے تو تم بھى لا الہ الا اللہ کہو جو شخص صدق دل سے مؤذن کے کلمات کا جواب دے گا تو وہ (جواب کی برکت سے ) بہشت ميں داخل ہو جائے گا "
    صحيح مسلم حديث نمبر ( 385 ).

    2 ۔ جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنھما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " جو شخص اذان سن كر يہ دعاء پڑھتا ہے اس كے ليے روز قيامت ميرى شفاعت حلال ہو جاتى ہے:
    " اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته "
    اے اس مكمل پكار كے رب، اور قائم نماز كے رب محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو وسيلہ اور فضيلت عطا فرما، اور انہيں وہ مقام محمود عطا فرما جس كا تو نے ان سے وعدہ كر ركھا ہے "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 589 ).

    3 ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کی آواز سنو تو مؤذن کو جواب دو اور جب اذان ختم ہوجائے تو پھر مجھ پر درُود بھیجو ۔ پس تحقیق جو مجھ پر ایک بار درُود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس بار رحمت بھیجتا ہے۔ (مسلم،الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن)
    4 ۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مؤذن(کی اذان)سن کر یہ دعا پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ دعا یہ ہے :شهدُ أن لا إلهَ إلا اللهُ، وحدَه لا شريكَ له وأن محمدًا عبدُه ورسولُه ، رَضِيتُ باللهِ ربًّا، وبمحمدٍ رسولًا، وبالإسلامِ دِينًا ؛ غُفِرَ له ذنبُه .
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی (سچا)معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تحقیق محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں اللہ کے رب ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔
    الراوي: سعد بن أبي وقاص المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 386
    خلاصة حكم المحدث: صحيح
    5 ۔ اذان اور اقامت كے درميان دعا كرنا
    يہ ايسا وقت ہے جس ميں دعاء كرنا مرغوب اور مستحب ہے.
    سیدناانس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ
    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " اذان اور اقامت كے درميان كى گئى دعاء رد نہيں كى جاتى اس ليے دعاء كيا كرو "
    سنن ترمذى حديث نمبر ( 212 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 437 ) مسند احمد حديث نمبر ( 12174 ) يہ الفاظ مسند احمد كے ہيں، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 489 ) ميں صحيح قرار دیا ہے.

اس صفحے کی تشہیر